تفہیم المسائل
علامہ نظا م الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ حج یا عمرے کا ارادہ ہے اور بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا، یا تو اس نے میقات کے اندر احرام باندھا یا میقات پرلوٹ کر آیا اور وہاں سے احرام باندھا، اگر میقات کے اندر احرام باندھا ہے تو یہ دیکھاجائے گا کہ اگر میقات تک آنے میں حج فوت ہوجانے کا خدشہ تھا تو واپس میقات پر نہ جائے، وہیں سے احرام باندھے اور دَم دے اور اگر یہ اندیشہ نہیں تو واپس میقات پر جائے، پھر اس میں بھی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بغیر احرام آئے یا احرام باندھ کر آئے، اگر بغیر احرام آیا اور میقات سے احرام باندھا تو دَم ساقط ہوگیا اور اگر میقات تک احرام باندھ کر آیا، تو امام اعظم ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں: اگر وہ تلبیہ (لبیک ) پڑھ چکا ہے، تو دَم ساقط ہوگیا اور اگر تلبیہ نہیں پڑھا، تو دَم ساقط نہیں ہوگا اور صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں دَم ساقط ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص اپنے میقات سے بغیر احرام گزر جائے، پھر قریبی کسی میقات سے جا کر احرام باندھے، تو جائز ہے اور اس پر کچھ(یعنی دَم ) واجب نہیں ہوگا، (فتاویٰ عالمگیری ، جلد1،ص:253)‘‘۔
آپ کی بیان کردہ صورت میں چونکہ آپ مسجدِ عائشہ جا کر نیت اور تلبیہ کے ساتھ احرام باندھتی رہی ہیں، لہٰذا اس عمل سے دَم ساقط ہوگیا، لیکن شرعی مسئلہ یہی ہے کہ میقات سے بغیر احرام اور نیت نہ گزریں اور آئندہ احتیاط برتیں۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com