اس وقت دنیا بیدار بھی ہے اور ساکت بھی۔ خبر نے شعور کو جھنجھوڑ دیا ہے، مگر یقین کو گہری نیند سلا دیا ہے۔ واقعہ تازہ ہے، لیکن اس کی بازگشت پرانی تاریخ کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی ہے۔ بیانات جاری ہیں، مگر ان میں حرارت کے ساتھ سرد مہری بھی شامل ہے۔ سفارت خانے متحرک ہیں، مگر فیصلے معلق ہیں، اسکرینوں پر نقشے چل رہے ہیں، مگر سمتیں منجمد دکھائی دیتی ہیں۔
تاریخ میں کچھ لمحے وقت کے تابع نہیں رہتے۔ وہ گھڑی کی سوئیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وینزویلا کے صدر کے اغوا کا لمحہ شاید ایسا ہی ہے۔ یہ واقعہ ابھی مکمل نہیں ہوا، مگر اس کے اثرات دنیا کی سانسوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ انجام سے پہلے ہی نتائج بول رہے ہیں، جیسے مستقبل نے حال پر سبقت حاصل کر لی ہو۔
عالمی فضا میں ایک خاموش شور پھیلا ہوا ہے، جیسے سب کچھ کہا جا رہا ہو مگر کوئی سننے کی ہمت نہ کر رہا ہو۔ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں الفاظ تو ادا ہو رہے ہیں، مگر ان میں یقین کی حرارت ناپید ہے۔ طاقتور ریاستیں محتاط ہیں، کمزور ریاستیں خوف زدہ، اور سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اب کیا روکا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون اس وقت موجود بھی ہے اور نہیں بھی۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کوئی عالمی کارروائی طے نہیں پائی، مگر یہ واضح ہو چکا ہے کہ طاقت نے قانون سے ایک قدم آگے بڑھ کر اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ قانون ٹوٹا نہیں، مگر آئینے کے سامنے ضرور کھڑا کر دیا گیا ہے۔جہاں اس کی کمزوری بھی نظر آتی ہے اور اس کی خاموشی بھی۔
دنیا کے چھوٹے اور درمیانے ممالک آج ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں: خودمختاری کی ضمانت کیا رہ گئی ہے؟ تحفظ کے وہ وعدے کہاں گئے جو معاہدوں میں لکھے گئے تھے؟ یہ سوال اب سفارتی زبان میں نہیں، قومی خوف میں پوچھے جا رہے ہیں۔
اس وقت دنیا ذہنی طور پر منقسم ہے۔ ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو اس واقعے کو غیر معمولی مگر قابلِ جواز اقدام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور دوسری طرف وہ ریاستیں ہیں جو اسے اپنی بقا کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھ رہی ہیں۔ یہ تقسیم ابھی اعلانات میں نہیں آئی، مگر احساس میں پوری طرح موجود ہے۔ سفارتی زبان نرم ہے، مگر اس کے نیچے خوف، غصہ اور حساب کتاب صاف دکھائی دیتا ہے۔
قیادت کے رویّے میں ایک خاموش مگر گہری تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سربراہانِ مملکت کیلئے یہ خبر اب محض خبر نہیں رہی، بلکہ ایک ذاتی انتباہ بن چکی ہے۔ سیکورٹی سخت ہو رہی ہے، عوامی سیاست سکڑ رہی ہے۔ ریاستی طاقت آہستہ آہستہ عوام سے ہٹ کر دیواروں اور حفاظتی دائروں میں سمٹتی جا رہی ہے۔
عالمی سیاست میں اعتماد مسلسل زوال پذیر ہے۔ سفارت کاری باقی رہے گی، مگر اس میں یقین کم اور شبہ زیادہ ہو گا۔ معاہدے تحریر کیے جائیں گے، مگر ان پر ایمان نہیں ہو گا۔ مسکراہٹیں کیمروں کے لیے ہوں گی، مگر فیصلے خوف کی بنیاد پر ہوں گے۔
طاقت کے بلاکس مزید سخت ہوتے دکھائی دیں گے۔ اگرچہ اس تقسیم کی ابھی کوئی واضح لکیر نہیں بنی، مگر اس کے آثار نمایاں ہیں۔ چین اور روس اس واقعے کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ممکن ہےمغرب اسے کسی اخلاقی یا سیاسی جواز میں لپیٹنے کی کوشش کرے ۔مگر بیانیے مزید بکھر جائیں گے۔
لاطینی امریکا اس وقت نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں سڑکوں پر احتجاج بڑھے گا، بیانات تلخ ہوں گے، اور ماضی کی مداخلتوں کی یادیں تازہ ہو جائیں گی۔ یہ خطہ پہلے ہی عدم اعتماد کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، اور یہ واقعہ اس زخم کو دوبارہ ہرا کر رہا ہے۔ اس کے اثرات عالمی معیشت، خصوصاً توانائی اور تیل کی منڈیوں تک ضرور پہنچیں گے۔
سب سے زیادہ خطرناک اخلاقی تبدیلی ہے۔ جب دنیا دیکھتی ہے کہ طاقتور کے لیے اصول مختلف ہیں، تو یہ سوچ آہستہ آہستہ معمول بن جاتی ہے۔ جیسا پاکستان میں ہوا ہے ۔شاید یہ کہنا درست نہ ہوکہ دنیا فوری طور پر کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک زیادہ غیر محفوظ دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر آج خاموشی غالب رہی تو کل یہ واقعہ ایک مثال بن جائے گا۔ اور مثالیں تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں، کیونکہ وہ بغیر آواز کے راستے بدل دیتی ہیں۔