• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورزش کولون کینسر کے مریضوں میں تھکن کم کرنے کیلئے مفید

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، خاص طور پر چلنا، کولون کینسر کے مریضوں میں طویل مدتی تھکن (fatigue) کو کم کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق امریکی سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی کی میٹنگ میں سان فرانسسکو میں پیش کی جانے والی ہے۔

تحقیق میں یہ دریافت ہوا کہ کولون کینسر کے مریض جو تشخیص کے بعد ورزش کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، ان کی تھکن کی سطح میں چند سالوں کے اندر واضح بہتری آتی ہے۔

جس مریض نے تشخیص کے بعد 6 سے 12 ماہ تک جسمانی سرگرمی جاری رکھی، انہیں زیادہ فوائد حاصل ہوئے اور مجموعی طور پر زندگی کے معیار میں بہتری دیکھنے کو ملی۔

ڈاکٹر جوئل سالٹزمن نے کہا کہ کینسر کے بچ جانے والے مریضوں کے لیے تھکن سب سے عام مشکلات میں سے ایک ہے اور یہ کینسر کی عام علامات میں شامل ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحقیق مضبوط شواہد فراہم کرتی ہے کہ ابتدائی مرحلے کے کولون کینسر والے مریضوں کے لیے ورزش زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔

تحقیق میں دنیا بھر کے کولون کینسر کے علاج کے ایک بین الاقوامی ٹرائل کے 1700 سے زائد مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

شرکاء کی عمریں اوسطاً 67 سال تھیں اور تقریباً نصف خواتین تھیں، سائنسدانوں نے ورزش کی سطح کو تشخیص کے وقت، 6 ماہ، ایک سال، اور 2 سال بعد دوبارہ جانچا۔

معتدل سرگرمیوں میں تیز چلنا اور گھریلو کام شامل تھے جبکہ زیادہ شدید ورزش میں سائیکلنگ اور دوڑ شامل تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مراحل کے کینسر کے مریضوں نے طرزِ زندگی میں تبدیلی کے بعد سب سے زیادہ تھکن میں کمی دیکھی، جبکہ آخری مراحل کے مریضوں میں بھی بہتری دیکھی گئی، لیکن نتائج اعدادوشمار کے اعتبار سے نمایاں نہیں تھے۔

سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ تشخیص کے وقت ورزش کی سطح طویل مدتی تھکن کی پیشگوئی نہیں کرتی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاج کے بعد ورزش کی ایک اہم ونڈو موجود ہے جس میں سرگرمی کے ذریعے دیرپا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

یہ نتائج ڈاکٹر لوزا لیو نے پیش کیے اور ابھی یہ ابتدائی نتائج ہیں، جو پیئر ریویو کے بعد مزید تصدیق طلب ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید