لاہور (محمد صابر اعوان سے ) حکومت نے میو ہسپتال کی 155سالہ پرانی تاریخی عمارت کو گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے پہلے مرحلے میں انگریز دو میں 1870ءکی دہائی میں تعمیر ہونے والی قدیم ای این ٹی بلڈنگ جبکہ دوسرے مرحلے میں اے وی ایچ کی بلڈنگ کو ناکارہ قرار دیکر گرانے اور اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ، ہسپتال انتظامیہ نےای این ٹی بلڈنگ کو گرانے کے لئے ٹینڈر نوٹس بھی طلب کر لیا ہے جس پر شہری حلقوں نےشدید تشویش کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ میو ہسپتال لاہور میں گھڑی وارڈ جو کہ اس وقت کے وائسرے اور گورنرجنرل ارل آف میو کے حکم پر برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئی اور جو ابتک لاہور کی تاریخ، طب کی تعلیم، اور عوام کی خدمت میں ایک اہم علامت ہےہسپتال کی عمارت 1870ء میں مکمل ہوئی اور 1871ء میں اس میں کام کا آغاز ہوگیا تھا ہسپتال کا طرز تعمیر اطالوی ہے، پودن نے اس کا نقشہ بنایا اور رائے بہادر کنہیا لال نےاسے تعمیر کروایا جو وقت کے مشہور ماہرین تعمیرات میں سے ایک تھے۔مگر حکومت پنجاب نے اس تاریخی قدیم بلڈنگ کو عوام اور مریضوں کے لئے مختلف متعلقہ محکموں کے رائے کے بعد خطرناک اور ناکارہ قرار دیکر اسے گرانے اور اس کی جگہ نیا ء ناک ،کان گلہ ٹاور اور جدید طرز پر اے وی ایچ وارڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال کی اس تاریخی عمارت کو محکمہ آثارقدیمہ کے ماہرین کی مدد سے قابل استعمال بنایا جا سکتا تھاجس طرح دیگر عمارتوں کو بنایا جا رہا ہے مگر تاریخی عمارات کو سنبھالنے اسے اپنا ورثہ بنانے کی بجائے حکومت انکی اصل شناخت ختم کر رہی ہے جو قابل مذمت اور باعث تشویش ہے، ذرائع کے مطابق میو ہسپتال انتظامیہ نے ای این ٹی وارڈ کو گرانے کے لئے 13جنوری 2026کو ٹینڈر طلب کر لیا ہے جس کےبعد ڈونرز کی مدد سے یہاں ای این ٹی ٹاور تعمیر کیا جائے گا جبکہ اے وی ایچ بلڈنگ جو کہ 1891ءمیں الگ سے قائم کی گئی تھی اس حصہ کو اس وقت صرف تاج برطانیہ کے انگریز مریضوں و افسران کے علاج معالجہ کے لئے بنایا گیا تھا جسے 1947کے بعد پرائیویٹ مریضوں کے لئے مختص کر دیا گیا اے وی ایچ(گورا)وارڈمختلف حکومتوں اور انتظامی افسران کی جانب سےعدم توجہی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مخدوش ہو چکی تھی، اے وی ایچ وارڈ وسطی دور میں تعمیر شدہ مالدیپ کے ہسپتالوں سے ملتا جلتا ہے اسے گورا وارڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،جنگ کے رابطہ کرنے پر سی ای او میو ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر ہارون حامد نے بتایا کہ ای این ٹی کی بلڈنگ کے دو مختلف سروے کرائے گئے تھے جنہوں نے بلڈنگ کو خطرناک قرار دے دیا تھا 2010 ء میں اس کی ری ویمپنگ کا فیصلہ ہوا تھا مگر بعد میں اسے ناکارہ قرار دے دیا گیا اب اسے ڈونرز کے تعاون سے گراکر ازسرنو جدید طرز کے مطابق تعمیر کیا جائے گا جبکہ اے وی ایچ کی بلڈنگ تعمیر و مرمت کا کام 2023میں شروع کرایا گیا تو اس کی دیواروں میں بڑے بڑے شکاف پڑگئے جس پر کام بند کر دیا گیا جبکہ اسی دوران سروسز ہسپتال کی پرانی عمارت بھی زمین بوس ہو گئی تھی اب سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر حکومتی اداروں کے مشورہ کے بعد اسے حکومت کی اے ڈی پی سکیم میں شامل کر لیا گیا ہے جس کی تعمیر کا ابتدائی تخمینہ 4ارب روپے لگایا گیا ہے تاہم فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس عمارت کا فرنٹ جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے کو اس کی اصل شکل میں بحال رکھا جائے گا اور پچھلے حصہ کو گراکر اس کی جگہ نئی اے وی ایچ بلڈنگ تعمیر کی جائے گی جس میں علاج معالجہ کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔