آسٹریلیا کے سائنس دانوں کے ایک گروپ نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں انسانوں اور خلائی مخلوق کے درمیان رابطے کے لیے ایک عالمی زبان (یونیورسل لینگویج) تیار کی جا سکتی ہے اور اس حیران کن تحقیق کی بنیاد شہد کی مکھی بنی ہے۔
محققین اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ اگر کبھی فلکیات دان خلا کی وسیع وسعتوں میں کسی ذہین خلائی مخلوق سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انسان ان سے کیسے بات چیت کرے گا۔
اس انقلابی خیال کے پیچھے غیر متوقع طور پر شہد کی مکھی کو بطور مثال لیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق زمین پر شہد کی مکھی سب سے زیادہ کسی اجنبی مخلوق سے مشابہ ہے، جس کے چھ پاؤں، پانچ آنکھیں اور انسانوں سے بالکل مختلف نظام ہوتے ہیں۔
تاہم، ان واضح فرقوں کے باوجود انسانوں اور شہد کی مکھیوں کے درمیان کچھ بنیادی مماثلتیں بھی پائی جاتی ہیں۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیاں ریاضی سمجھنے اور سادہ حسابی تصورات سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہرین کا خیال ہے کہ ریاضی خلائی مخلوق سے رابطے کے لیے ایک عالمی زبان بن سکتی ہے۔
موناش یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایڈرین ڈائر کے مطابق انسان اور شہد کی مکھیاں ارتقائی لحاظ سے 600 ملین سال کے فاصلے پر ہیں، جس کے باعث دونوں کی جسمانی ساخت، دماغی صلاحیت اور ثقافت بالکل مختلف انداز میں ترقی کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام تفریق کے باوجود یہ حیران کن بات ہے کہ دونوں مخلوقات میں اعداد اور ریاضی کی بنیادی سمجھ یکساں پائی جاتی ہے۔
تحقیق کے دوران کیے گئے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد کی مکھیاں علامات کو اعداد کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ ریاضی کو عالمی زبان ماننے کا نظریہ نیا نہیں، بلکہ یہ خیال پہلی بار 1974 میں پیش کیا گیا تھا تاہم اس وقت سائنس دانوں کو یہ یقین نہیں تھا کہ آیا خلائی مخلوق بھی ریاضی کے بنیادی اصولوں کو سمجھ سکتی ہے یا نہیں۔