لیلا پہلوی ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ شاہ بانو فرح پہلوی کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔ وہ ایک طاقتور شاہی خاندان میں پیدا ہوئیں مگر اِن کی زندگی کا زیادہ تر حصہ وطن سے دور جلاوطنی میں گزرا۔
شہزادی لیلا 27 مارچ 1970ء کو تہران میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن شاہی محل کے محفوظ ماحول، نجی اساتذہ اور ایرانی ثقافت کے زیرِ سایہ گزرا مگر یہ پُرسکون زندگی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔
1979ء کے ایرانی انقلاب کے دوران جب شاہ کے خلاف مظاہروں نے شدت اختیار کی تو شاہی خاندان کو ایران چھوڑنا پڑا۔ اس وقت شہزادی لیلا کی عمر صرف 9 برس تھی۔
انقلاب کے بعد ایرانی شاہی خاندان مختلف ممالک میں رہا جن میں مصر، مراکش، امریکا اور دیگر ممالک شامل تھے۔ اسی دوران شاہ ایران کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے۔
27 جولائی 1980ء کو ایران کے آخری شاہ کا قاہرہ میں انتقال ہو گیا۔ لیلا اس وقت 10 سال کی تھیں۔ اس کے بعد خاندان نے امریکا میں مستقل رہائش اختیار کی۔ شاہی پس منظر کے باوجود لیلا اندرونی طور پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ وہ ڈپریشن، دائمی تھکن اور شدید اینوریکسیا (کھانے کی بیماری) میں مبتلا رہیں۔ علاج کے دوران اِنہیں نیند کی گولیوں پر بھی انحصار کرنا پڑا۔
وہ عوامی زندگی سے دور رہیں اور مختصر عرصے کے لیے پیرس میں ماڈلنگ بھی کی مگر شہرت اور توجہ سے گریز کرتی رہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جلاوطنی اور شناخت کے بحران نے شہزادی لیلا پہلوی کی مشکلات کو مزید بڑھایا۔
10 جون 2001ء کو شہزادی لیلا پہلوی لندن کے ایک ہوٹل میں مردہ پائی گئیں۔ اس وقت ان کی عمر محض 31 برس تھی۔
عدالتی تحقیقات کے مطابق ان کی موت تجویز کردہ نیند کی 2 گولیوں کے بجائے 40 گولیاں لینے کے باعث ہوئی جبکہ جسم میں منشیات کے آثار بھی پائے گئے۔ ان کی موت کو ممکنہ خودکشی قرار دیا گیا۔
شہزادی لیلا کو پیرس میں دفن کیا گیا جو ان کی پوری زندگی کی جلاوطنی کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔
بعدازاں 2011ء میں ان کے بھائی شہزادہ علی رضا نے بھی جلاوطنی میں خودکشی کرلی۔ لیلا اور علی رضا کی والدہ ملکہ شاہ بانو فرح پہلوی نے بعد میں اپنی یادداشتوں میں ان ذاتی سانحات، دکھ اور شناخت کے المیے کا ذکر کیا۔