• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف-14 لڑاکا طیارے اب بھی ایران کے زیر استعمال

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ایران وہ واحد ملک ہے جو اب بھی ایف- 14 لڑاکا طیارے استعمال کر رہا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے مغربی دنیا کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے اسپیئر پارٹس کی شدید قلت ہونے کے بعد ایران کو اپنے قیمتی ایف- 14 بیڑے کو برقرار رکھنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان لڑاکا طیاروں کی کم از کم ایک معقول تعداد پرواز کرتی رہے۔

ایران نے بہت جدوجہد کے بعد  ملک میں ایف- 14 لڑاکا طیاروں کی معقول تعداد کو برقرار رکھنے کے لیے طیارے کے کچھ پرزوں کو مقامی طور پر کامیابی کے ساتھ تیار کیا۔

فی الحال ایران کے پاس موجود ایف- 14 لڑاکا طیاروں کی صحیح تعداد غیر متعین ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ہتھیاروں میں موجود ایف-14 خلیج فارس میں آنے والی کسی بھی امریکی فوج کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اب اپنے طاقتور ریڈار اور طویل فاصلے تک فضا میں مار کرنے والے میزائل اے آئی ایم- 54 فینکس کے لیے مشہور ایف- 14 لڑاکا طیارے کو ریٹائر کر دیا ہے۔ 

اس طیارے کا بنیادی کردار کیریئر اسٹرائیک گروپس کو اسٹریٹجک بمباروں سے بچانا تھا جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل چلا سکتے تھے۔

4 جنوری 1989ء کو لیبیا کے ساحل کے قریب یو ایس ایس جان ایف کینیڈی سے پرواز کرنے والے 2 ایف-14 اے لڑاکا طیاروں نے دو مگ-23 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا جن میں سے ایک کو اے آئی ایم-7 اور دوسرے کو اے آئی ایم-9 میزائل نے نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ 1970ء کی دہائی میں جب ایران مشرق وسطیٰ میں امریکا کا ایک اہم اتحادی تھا تو اس وقت امریکا نے ایران کو 79 ایف-14 لڑاکا طیارے فروخت کیے اور ان لڑاکا طیاروں کی خریداری نے دونوں ممالک کی دوستی کو مضبوط کیا لیکن ایرانی انقلاب اور آیت اللّٰہ خمینی نے ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی کی جگہ لے لی تو دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی آ گئی۔


خاص رپورٹ سے مزید