کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) لوکل بس ایسوسی ایشن کے صدر بابو شفیع لہڑی ، سرپرست حاجی اختر کاکڑ ، جنرل سیکرٹری شیر احمد لہڑی اور دیگر نے کہا ہے کہ چھ سو سے زائد لوکل بسوں کی بندش سے لوکل بس مالکان نان شبینہ کے محتاج اور ہزاروں خاندان بے روزگار ہوگئے ہیں ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے توسخت اقدام سے گریز نہیں کریں گے یہ بات انہوں نے جمعہ کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پرملک عبدالمجید کاکڑ، حاجی محمدآصف بازئی،خالددرانی،حاجی محمدافضل شاہوانی،محمد اقبال جتک،نذیر احمد بازئی،حاجی نیاز محمد کاکڑ،قدرت محمد حسنی،بخت محمد،حاجی سراج الدین،حاجی عبدالرحمٰن،عصمت اللہ کاکڑ،محمد انور بنگلزئی،غلام جیلانی زہری،یاسر زہری اور حاجی اسحٰق بازئی اوردیگربھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ہم جدید طرز کی بسوں کے مخالف نہیں لیکن امتیازی اقدامات ناقابل برداشت ہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مسترد شدہ پالیسی بلوچستان میں لوکل بسوں پر لاگو نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ متحدہ لوکل بس مالکان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں بصورت دیگر ٹرانسپورٹر مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے سخت اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔