یہ کہانی ایک ہی سانس میں قدیم بھی ہے اور جدید بھی، کیونکہ اس کا آغاز ماضی میں ہے مگر اختتام ہر لمحہ حال میں ہوتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جو نہ بادشاہ تھے مگر فیصلوں پر حاوی تھے، نہ فقیر تھے مگر اختیار سے آزاد نہیں تھے۔ وہ تلوار سے ناواقف تھے مگر سلطنتیں ان کے وزن سے جھکتی تھیں۔
وہ تخت سے دور تھے مگر اقتدار کی نبض انہی کے ہاتھ میں دھڑکتی تھی۔قدیم سرمایہ دار خاموش تھے مگر ان کی خاموشی گونج رکھتی تھی، محتاط تھے مگر ان کی احتیاط خطرہ بن جاتی تھی، دوراندیش تھے مگر ان کی نگاہیں قریب کے نقصان دیکھ لیتی تھیں۔ ان کی دولت دکھائی نہیں دیتی تھی مگر اثر چھوڑ جاتی تھی، بند نہیں ہوتی تھی مگر قابو میں رہتی تھی، گنی نہیں جاتی تھی مگر زمانے تولے جاتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جو خزانہ دیواروں میں بند ہو وہ ایک دن گر جاتا ہے، اور جو یادداشت میں رکھا جائے وہ نسلوں میں بکھر جاتا ہے۔
گنگا کے کنارے بسنے والا شہر شور سے بھرا تھا مگر فیصلوں میں خاموش، تجارت سے روشن تھا مگر نیتوں میں دھندلا۔ اسی شہر میں سوامِترا رہتا تھا، جو جانا جاتا تھا مگر پہچانا نہیں جاتا تھا، موجود تھا مگر نمایاں نہیں تھا۔ اس کا گھر غریب دکھتا تھا مگر اختیار سے بھرا تھا، اس کا لباس سادہ تھا مگر اس کی چال حساب والی تھی، اس کی خوراک عام تھی مگر اس کی سوچ غیر معمولی۔وہ دربار میں نہیں جاتا تھا مگر دربار اس کے اشارے پہ ہلتا تھا، وہ جلوس میں شامل نہیں ہوتا تھا مگر راستے اس کیلئے بنتے تھے۔ اس کا قول سادہ تھا مگر کاٹ رکھتا تھا: دولت کا دشمن چور نہیں، نظر ہے۔ نظر دکھاتی ہے مگر کمزور کرتی ہے، سوال پیدا کرتی ہے مگر حساب مانگتی ہے، اور حساب آخرکار زوال بن جاتا ہے۔
اسی فہم کے تحت اس نے دولت کو بانٹا، مگر بچانے کیلئے نہیں، مٹانے کیلئے نہیں، بلکہ بے اثر بنانے کیلئے۔ اس نے سونا زمین کو دیا تاکہ انسان سے محفوظ رہے، پانی کے نیچے دفن کیا تاکہ یادداشت سے اوپر رہے، سیلاب کے سپرد کیا تاکہ نقش مٹ جائیں مگر راز باقی رہے۔ زمین نے اسے چھپایا نہیں، سنبھالا۔پانی نے اسے بہایا نہیں، آزمائش دی۔دوسرا حصہ اس نے دھرم میں رکھا، مگر نام کے بغیر، دعا کے بغیر، شور کے بغیر۔ خانقاہوں میں دیا گیا یہ سونا واپس نہیں آیا مگر اثر بن گیا، تعلیم میں ڈھل گیا مگر ملکیت نہ بنا، روایت میں گھل گیا مگر تخت کا زینہ نہ ہوا۔ یہ دولت لوٹی نہیں جا سکتی تھی کیونکہ یہ اب سکہ نہیں، خیال تھی۔
تیسرا حصہ اس نے انسان میں رکھا، مگر ہاتھ میں نہیں، ذہن میں۔ اس نے بیٹوں کو سونا نہیں دیا بلکہ حساب دیا، شور نہیں دیا بلکہ خاموشی دی، جلدی نہیں دی بلکہ وقت کی پہچان دی۔ اس نے کہا دولت سہارا نہیں، امتحان ہے۔وزن نہیں، ذمہ داری ہے اور جو خالی ہاتھ ہو کر بھی سنبھل جائے، وہی اصل امیر ہے۔جب بھکشونی دھمّادِنّا نے سوال کیا تو سوال نرم تھا مگر وار تیز تھا۔یہ سب خوف ہے؟ اس نے پوچھا۔ سوامِترا مسکرایا، کیونکہ مسکراہٹ جواب تھی مگر انکار نہیں۔خوف نہیں فہم، اس نے کہا، کیونکہ خوف باندھتا ہے اور فہم آزاد رکھتا ہے۔ دھمّادِنّا نے ترک کی بات کی، اس نے سر جھکایا، کیونکہ سر جھکانا ہار نہیں، پہچان تھی۔
صدیاں گزریں تو وقت بدلا مگر خواہش نہ بدلی۔ سلطنتیں مٹ گئیں مگر سوال زندہ رہا۔ انسان اب بھی یہی چاہتا تھا کہ جو اس کے پاس ہے وہ نظر سے محفوظ رہے، اور جو نظر میں آ جائے وہ سوال سے بچ جائے۔
اسی لیے ایک دن جدید ریاست کی اسمبلی میں روشنی تھی مگر شفافیت نہیں، آواز تھی مگر سوال نہیں، قانون تھا مگر جواب نہیں۔ سبز قالین پر بیٹھے لوگ وزن نہیں تول رہے تھے، رفتار ناپ رہے تھے، فیصلہ نہیں سوچ رہے تھے، سہولت دیکھ رہے تھے۔ بل لمبا تھا مگر نیت مختصر، الفاظ زیادہ تھے مگر مفہوم کم۔اثاثے ہوں گے، مگر آنکھوں سے دور۔ہاتھ اٹھے تو ذمہ داری گری، گنتی ہوئی تو ضمیر کم ہوا، اور ایوان نے سکون لیا کیونکہ سچ پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ یہ سکون وہی تھا جو سوامِترا کو سونا دفن کرتے وقت ملا تھا، مگر فرق یہ تھا کہ ایک نے دولت چھپائی تھی، دوسرے نے حساب۔
بابا سلیم نے ٹی وی بند کیا تو شوررُکا مگر سوال نہیں رُکا۔ اس کی دکان میں کتابیں تھیں مگر فتوے نہیں، آئینے تھے مگر پردے نہیں۔ اس نے کہا آئینے پر کپڑا ڈال دو تو چہرہ بگڑتا نہیں، غائب ہو جاتا ہےمگر کیا غائب ہونا معصومیت بن جاتا ہے؟علی نے یہ سنا تو خاموش ہو گیا، کیونکہ خاموشی کبھی لاعلمی ہوتی ہے اور کبھی پہچان۔ اس نے محسوس کیا کہ سوال پرانا ہے مگر موقع نیا، کردار بدلے ہیں مگر کہانی وہی۔ تب دولت چھپتی تھی تاکہ غالب نہ آ جائے، اب سچ چھپتا ہے تاکہ غالب نہ آ جائے۔
مسجد میں امام نے آیت پڑھی تو آواز ٹھہری مگر معنی پھیل گئے۔ یہ خاموشی اسمبلی کی خاموشی نہیں تھی ۔ایک میں پردہ تھا، دوسری میں آئینہ۔ ایک چھپاتی تھی، دوسری دکھا کر چھوڑ دیتی تھی۔حارث شاہ فائل کے سامنے بیٹھا تو سب کچھ اس کے پاس تھا مگر سامنے نہیں تھا۔
اختیار موجود تھا مگر اقرار غائب، تحفظ حاصل تھا مگر اعتماد نہیں۔ بیٹی نے پوچھا تو سوال چھوٹا تھا مگر ضرب بڑی۔اگر سب ٹھیک ہے تو چھپایا کیوں جا رہا ہے؟علی نے رات کو لکھا کہ قدیم سرمایہ دار نے دولت چھپائی تاکہ آزاد رہے، اور جدید سیاست دان نے سچ چھپایا تاکہ محفوظ رہے۔ طریقہ ایک تھا مگر نیت الٹ، نتیجہ مختلف تھا مگر انجام قریب۔
کہانی ختم نہیں ہوئی کیونکہ سوال مرا نہیں۔ قوموں کے سامنے آج بھی یہی انتخاب ہے،آئینہ یا پردہ۔ آئینہ سچ دکھاتا ہے مگر قیمت مانگتا ہے، پردہ وقت خریدتا ہے مگر انجام نہیں بدلتا۔ اور تاریخ ہمیشہ یہی گواہی دیتی ہے کہ جو آئینے سے بھاگتا ہے، وہ آخرکار اندھیرے سے ٹکرا جاتا ہے۔