ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے 27 جنوری 2026ء کو ایک غیر معمولی اور دور رس اثرات رکھنے والا انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے ریاستِ ٹیکساس کے تمام سرکاری اداروں اور پبلک یونیورسٹیوں کو نئے H-1B ویزا پٹیشنز فائل کرنے سے فوری طور پر روک دیا ہے۔
یہ حکم باضابطہ طور پر گورنر آفس کی ویب سائٹ gov.texas.gov پر جاری کیا گیا جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاستی ایجنسی یا عوامی اعلیٰ تعلیمی ادارہ Texas Workforce Commission کی تحریری اجازت کے بغیر کسی غیر ملکی ورکر کے لیے H-1B ویزا کے تحت نئی درخواست یا نامزدگی نہیں کر سکے گا۔
یہ پابندی ٹیکساس لیجسلیچر کے 90ویں ریگولر سیشن کے اختتام یعنی 31 مئی 2027ء تک نافذ العمل رہے گی۔
اپنے خط میں گورنر گریگ ایبٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیکساس نے گزشتہ برسوں میں تعلیم، جاب ٹریننگ اور ہائی ڈیمانڈ اسکلز پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں تاکہ ٹیکساس کے شہریوں کو مقامی اور عالمی سطح کی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ان کے مطابق وفاقی H-1B ویزا پروگرام کا مقصد امریکی ورک فورس کی کمی کو پورا کرنا تھا لیکن متعدد رپورٹس اور شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پروگرام کا غلط استعمال کیا گیا جہاں بعض اداروں نے اہل امریکی ورکرز کو نظرانداز کر کے غیر ملکی ملازمین کو کم اجرت پر ترجیح دی حتیٰ کہ بعض معاملات میں امریکی کارکنوں کو نکال کر H-1B ہولڈرز کو رکھا گیا۔
گورنر کے مطابق ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والی نوکریاں سب سے پہلے ٹیکساس کے شہریوں کا حق ہیں اور ریاستی حکومت کو اس معاملے میں مثال قائم کرنی ہوگی۔
اس حکم کے تحت ریاستی اداروں اور پبلک یونیورسٹیوں کو 27 مارچ 2026ء تک Texas Workforce Commission کو ایک جامع رپورٹ جمع کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں 2025ء کے دوران فائل کی گئی نئی اور تجدید شدہ H-1B درخواستوں کی تعداد، اس وقت ادارے میں موجود H-1B ویزا ہولڈرز کی مجموعی تعداد، ان افراد کے ممالکِ پیدائش، ملازمت کی نوعیت اور جاب ڈسکرپشن، ہر ویزا کی متوقع اختتامی تاریخ، اور یہ دستاویزی ثبوت شامل ہوں گے کہ متعلقہ آسامیوں کے لیے پہلے اہل ٹیکساس امیدواروں کو معقول مواقع فراہم کیے گئے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ Texas Workforce Commission کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حکم پر عمل درآمد کے لیے ضروری گائیڈ لائنز اور ضوابط جاری کرے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب وفاقی سطح پر بھی H-1B پروگرام کے مستقبل اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر بحث جاری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسیوں میں سختی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی نمایاں ہوں گے کیونکہ ریاستی سطح پر ملازمتوں کے تحفظ کو ایک مضبوط سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس حکم سے سب سے زیادہ متاثر پبلک یونیورسٹیاں، سرکاری تحقیقی ادارے اور وہ شعبے ہوں گے جہاں سائنس، انجینئرنگ، میڈیکل اور ریسرچ فیکلٹی کے لیے عالمی سطح کے ماہرین پر انحصار کیا جاتا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں نئی بھرتیوں میں تاخیر، تحقیقی منصوبوں میں رکاوٹ اور بعض تعلیمی پروگراموں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ غیر ملکی پروفیشنلز بھی متاثر ہوں گے جن میں بڑی تعداد پاکستانی، بھارتی، چینی اور دیگر ایشیائی ماہرین کی ہے جو اس وقت ریاستی اداروں یا پبلک یونیورسٹیوں سے وابستہ ہیں یا مستقبل میں وہاں ملازمت کے خواہاں تھے تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ پابندی نجی کمپنیوں، نجی یونیورسٹیوں، اسٹارٹ اپس، ایونٹس، کانفرنسز اور نجی شراکت داریوں پر لاگو نہیں ہوتی اور وہ اس فیصلے سے براہ راست متاثر نہیں ہوں گے۔
مجموعی طور پر گورنر گریگ ایبٹ کا یہ حکم ٹیکساس میں ریاستی سطح پر امیگریشن اور روزگار کے توازن کو نئے سرے سے متعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اگرچہ یہ پابندی عارضی نوعیت کی ہے لیکن اس کے ذریعے دیا گیا پیغام واضح ہے کہ ریاستی وسائل اور سرکاری نوکریوں کے معاملے میں اب غیر ملکی افرادی قوت کو سخت جانچ اور نگرانی کے عمل سے گزرنا ہوگاناور اس کے اثرات آنے والے برسوں تک ٹیکساس کی تعلیمی، تحقیقی اور ملازمت کی پالیسیوں میں محسوس کیے جاتے رہیں گے