ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ریاستی جامعات اور سرکاری اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ سال تک H-1B ویزا کے تحت نئی بھرتیاں روک دیں۔
یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ویزا پروگرام میں اصلاحات کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
گورنر گریگ ایبٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والی نوکریوں میں سب سے پہلے ٹیکساس کے شہریوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، اس پابندی کا مقصد H-1B ویزا پروگرام کے لیے قانونی ضوابط تیار کرنا اور ممکنہ اصلاحات کو نافذ کرنے کا وقت دینا ہے۔
یہ پابندی 31 مئی 2027ء تک نافذ رہے گی تاہم ٹیکساس ورک فورس کمیشن کی اجازت سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
گورنر کے حکم نامے کے تحت تمام اداروں کو H-1B ویزا ہولڈرز کی تعداد، ملازمتوں کی نوعیت، پیدائش کے ممالک اور ویزا کی مدت سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
ڈیموکریٹ رہنما اور ٹیکساس میکسیکن امریکن لیجسلیٹو کاکس کے چیئرمین رامون روميرو جونیئر نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جامعات، تحقیقی مراکز اور اسپتالوں میں عملے کی قلت بڑھے گی اور عوامی خدمات متاثر ہوں گی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس میں سب سے زیادہ H-1B ویزا ہولڈرز یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر اور یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن میں ہیں۔
واضح رہے کہ H-1B ویزا پروگرام 1990ء میں متعارف کروایا گیا تھا جس کے تحت امریکی ادارے خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی افراد کو ملازمت دے سکتے ہیں۔
یہ ویزا 3 سال کے لیے جاری ہوتا ہے اور اس میں مزید 3 سال کے لیے توسیع ممکن ہوتی ہے۔