قیامت کی علامتی گھڑی کا وقت مزید آگے بڑھا دیا گیا ہے، اب اس گھڑی کے مطابق رات کے 12 بجنے میں صرف 85 سیکنڈز باقی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جوہری ہتھیاروں، ماحولیاتی تبدیلی اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث گھڑی کو آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈز پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 سیکنڈ زیادہ قریب ہے۔
انسانیت کو ممکنہ تباہی یعنی قیامت سے کتنی قربت حاصل ہے، کی علامت سمجھی جانے والی اس گھڑی میں گزشتہ سال رات کے 12 بجنے میں 89 سیکنڈز باقی تھے۔
گزشتہ روز کیا جانے والا یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے، جس کے دوران انہوں نے یک طرفہ فوجی کارروائیوں کے احکامات دینے اور متعدد عالمی تنظیموں سے علیحدگی سمیت کئی عالمی سفارتی روایات کو چیلنج کیا۔
قیامت کی گھڑی کو ترتیب دینے والے ادارے دی بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق روس، چین، امریکا اور دیگر بڑی طاقتیں تیزی سے جارحانہ، محاذ آرائی پر مبنی اور قوم پرستانہ رویہ اختیار کر رہی ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے بورڈ کی مشاورت سے کیا گیا ہے جس میں 8 نوبل انعام یافتہ شخصیات شامل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سخت محنت سے حاصل کیے گئے عالمی اتفاقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے بڑی طاقتوں کے درمیان ’فاتح تمام عظیم طاقتوں کا مالک ہو گا‘ کی دوڑ تیز ہو رہی ہے اور بین الاقوامی تعاون کمزور پڑ رہا ہے، جو جوہری جنگ، ماحولیاتی تبدیلی، بایوٹیکنالوجی کے غلط استعمال، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور دیگر تباہ کن خدشات کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ دی بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کو البرٹ آئن اسٹائن، رابرٹ اوپن ہائمر اور شکاگو یونیورسٹی سے وابستہ دیگر جوہری سائنس دانوں نے قائم کیا تھا۔
1947ء میں قیامت کی گھڑی کو پہلی بار آدھی رات سے 7 منٹ پہلے پر رکھا گیا تھا۔
گزشتہ برس بھی گھڑی کو آدھی رات کے قریب کیا گیا تھا، تاہم صرف ایک سیکنڈ کی تبدیلی کی گئی تھی، جس کی وجہ دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششوں سے متعلق محتاط امیدیں بتائی گئی تھیں۔