• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حماس نے اسرائیلی حکومت کا 60 دن میں ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم مسترد کر دیا

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے 60 دن میں ہتھیار ڈالنے کے مطالبے اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے اپنے تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اِنہیں اس نوعیت کے کسی باضابطہ مطالبے کا علم نہیں، اسرائیلی وزیراعظم اور سرکاری حلقوں کے بیانات محض دھمکیاں ہیں جن کا جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔

حماس کا یہ بیان اسرائیلی کابینہ کے سیکریٹری یوسی فوکس کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اگر حماس نے 60 دن کے اندر ہتھیار نہ ڈالے تو وہ غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کر دیں گے۔ 

اسرائیلی سینیٹر یوسی فوکس کا کہنا تھا کہ غزہ کو یہ مہلت امریکا کی درخواست پر دی گئی ہے، ممکنہ طور پر اس مدت کا آغاز 19 فروری کو امریکا کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق اجلاس سے ہو سکتا ہے تاہم اس پر بعد میں جائزہ لیا جائے گا، اگر منصوبہ ناکام ہوا تو اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔

عرب میڈیا کے مطابق محمود مرداوی نے ’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے پورے خطے پر سنگین اثرات ہوں گے اور فلسطینی عوام کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری کے وسط میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا تھا جس میں امریکا کے مطابق حماس کو غیر مسلح کرنے اور بین الاقوامی امن فورس تعینات کرنے پر بات ہونی تھی تاہم حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں۔

اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس میں اب تک 600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں خوراک، ادویات اور رہائش کا شدید بحران برقرار ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید