بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انڈر19 ورلڈکپ سے باہر ہونے کا الزام آئی سی سی پر عائد کرتے ہوئے آئی سی سی کے شیڈول اور رویے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا۔
بنگلادیشی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ورلڈکپ میں ذاتی خرچے پر ٹیم کے سفر کا انکشاف کیا ہے۔
بی سی بی کے گیم ڈویلپمنٹ کوآرڈینیٹر حبیب البشر نے ٹیم کے پرفارم نہ کرنے کی وجہ شیڈول کو قرار دیا۔ انگلینڈ اور بھارت کے خلاف ہماری اپروچ سے زیادہ رن ریٹ کا اندازہ صحیح نہیں لگایا۔ سفری شیڈول نے ہماری ٹیم کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ٹیم 6 جنوری کو زمبابوے روانہ ہوئی جہاں دو مختلف وینیوز پر 10 اور 13 جنوری کو وارم اپ میچ کھیلے۔ ٹیم کو دونوں وینیوز کے درمیان 4 گھنٹے سڑک کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈکپ کے دوران آئی سی سی نے ڈومیسٹک فلائٹس منع کی تھیں، ٹیموں کو بسوں کے ذریعے سفر کرنا پڑا، بنگلادیش ٹیم کو گروپ میچز کےلیے مون سون کے موسم میں ہرارے سے بولاوایو بذریعہ سڑک جانا تھا جو 9 گھنٹے کا سفر بنتا ہے۔ میچز کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بی سی بی نے نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف میچ کے لیے ہوائی جہاز کا سفر ارینج کیا۔
حبیب البشر کا کہنا تھا کہ لڑکوں کو تھکاوٹ سے بچانے کے لیے بی سی بی نے اپنی جیب سے فلائٹ کی ارینجمنٹ کی، ہمارا شیڈول کا فی غیرمنصفانہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی شیڈول کے مطابق ہم نے دو وارم اپ میچز ماسونگو میں کھیلنے تھے جہاں سے بولاوایو جانا تھا، بعد میں آئی سی سی نے اچانک شیڈول تبدیل کیا اور میچز دو الگ وینیوز پر کھیلنے پر پڑے۔
حبیب البشر کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی سی سی کو سفری بوجھ کی وجہ سے میچز منتقل کرنے کا کہا مگر ہماری نہیں سنی گئی۔