• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہرت بچوں کی معصومیت چھین لیتی ہے: کم عمر یوٹیوبر محمد شیراز کے والد

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

پاکستانی یوٹیوب کی دنیا کے سب سے کم عمر وی لاگر محمد شیراز کے والد نے بیٹے کے یوٹیوب چھوڑنے کے فیصلے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے شہرت کی تلخ حقیقت سے بھی پردہ اُٹھا دیا۔

محمد شیراز اور مسکان گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے 2 کم عمر اور معروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹر بہن بھائی ہیں۔

شیراز نے ایک دیہی ولاگ کے وائرل ہونے کے بعد غیر معمولی شہرت حاصل کی، جبکہ بعد ازاں ان کی بہن مسکان نے بھی عوامی توجہ اور پزیرائی سمیٹی۔

حالیہ عرصے میں دونوں بہن بھائی اپنے گاؤں میں فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن میں بچوں کے لیے ایک اسکول کی تعمیر بھی شامل ہے۔

شیراز نے نہایت کم وقت میں سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں فالوورز حاصل کیے، اس وقت شیرازی ولیج ولاگز کے یوٹیوب پر 17 لاکھ 90 ہزار سبسکرائبرز، انسٹاگرام پر 21 لاکھ، فیس بک پر 27 لاکھ جبکہ ٹک ٹاک پر 4 لاکھ 95 ہزار فالوورز ہیں۔

حال ہی میں محمد شیراز کے والد نے ایک وی لاگ ریکارڈ کیا، جس میں انہوں نے شیراز کے یوٹیوب پر غیر فعال ہونے سے متعلق پوچھے جانے والے سوالوں کا جواب دیا۔

مداحوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شیراز کے والد نے کہا کہ آپ لوگ پوچھ رہے تھے کہ شیراز وی لاگز کیوں نہیں بنا رہے یا وہ اپنی مقبولیت کو کیوں برقرار نہیں رکھ سکے؟ اس پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شیراز 2024ء تک وی لاگنگ کرتے رہے، تاہم 2024ء کے اختتام تک میں نے محسوس کیا کہ شیراز وی لاگنگ کو بوجھ سمجھنے لگے تھے، میں نے ان میں تبدیلی دیکھی، جس کے بعد مجھے لگا کہ انہیں زبردستی وی لاگنگ جاری رکھنے پر مجبور کرنا زیادتی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ پورا دن صرف کانٹینٹ بنانے میں مصروف رہیں، میری خواہش ہے کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کریں اور اپنے گاؤں کی خدمت کریں، میں نہیں چاہتا کہ وہ شہرت کے پیچھے بھاگیں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے کام آئیں۔

شیراز کے والد نے کہا کہ میں نے ساری زندگی اپنے گاؤں کے لوگوں کی مشکلات دیکھی ہیں، اسی لیے ہمارا مشن ہے کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں، وہ کبھی کبھار وی لاگنگ کریں گے، مگر باقاعدگی سے نہیں، وہ طویل دورانیے کی وی لاگنگ نہیں کر سکتے اور انہوں نے خود بھی طویل دورانیے کے وی لاگ بنانے سے انکار کردیا ہے، شیراز کو مزاحیہ اسکیٹس اور ہلکی پھلکی، مختصر ویڈیوز بنانا پسند ہیں، جو وہ اس وقت بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شیراز کو ملنے والی شہرت معمولی نہیں تھی، تاہم اس کے باوجود انہوں نے وی لاگنگ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ شہرت کا ایک تاریک پہلو بھی ہوتا ہے، جو بچوں کی معصومیت چھین لیتا ہے۔

انہوں نے دیگر والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ شہرت کی خاطر اپنے بچوں کی زبردستی ویڈیوز نہ بنائیں اور نہ ہی ان پر ویڈیوز بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں ورنہ بچہ بہت تناؤ محسوس کرے گا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید