لمبا قد عموماً خوبصورتی اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن طبی تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ لمبا قد مخصوص صحت کے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لمبے قد والے افراد کو دل، جوڑوں اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق مسائل کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے تاہم صحت مند طرزِ زندگی سے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لمبے قد کے باعث خون کی نالیاں بھی لمبی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دل کو خون پمپ کرنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
اس سے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور خون کے لوتھڑے بننے جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
لمبا قد اور وزن کی وجہ سے گھٹنوں، کولہوں اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، وقت کے ساتھ یہ دباؤ جوڑوں کے درد، ابتدائی گٹھیا اور دائمی کمر درد کا سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ لمبے قد والے افراد کے پھیپھڑے بڑے ہوتے ہیں لیکن غلط بیٹھنے یا جھک کر چلنے کی عادت سانس لینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل بھی سانس میں دقت پیدا کر سکتے ہیں۔
لمبے ہاتھ اور ٹانگیں کھیلوں کے دوران پٹھوں اور لیگامنٹس (Ligament) پر زیادہ دباؤ ڈالتی ہیں، اچانک مڑنے یا چھلانگ لگانے سے گھٹنے اور ٹخنے پر چوٹیں زیادہ لگ سکتی ہیں۔
لمبی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر طویل وقت تک بیٹھنے اور کمزور جسمانی ساخت کے باعث، اس سے ڈسک خراب ہونے اور مستقل کمر درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قد بذاتِ خود بیماری کی وجہ نہیں بنتا بلکہ اصل کردار طرزِ زندگی، ورزش، بیٹھنے کی درست عادت اور متوازن غذا ادا کرتی ہے۔
لمبے قد والے افراد اگر اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھیں تو وہ ان مسائل سے بڑی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔