• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردیوں میں بال زیادہ کیوں جھڑتے ہیں؟ اس سے بچاؤ کیسے ممکن؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

موسمِ سرما کے آتے ہی بیشتر افراد بالوں کے ضرورت سے زائد جھڑنے کی شکایت کرتے ہیں، جس کی بڑی وجہ قدرتی ماحول اور روز مرہ معمولات میں آنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سردیوں میں بالوں کا زیادہ جھڑنا ایک عام مسئلہ ہے، تاہم اس کی وجوہات کو سمجھ کر اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

سردیوں میں بالوں کے جھڑنے کی وجوہات

نمی کی کمی:

سردیوں میں فضا خشک ہو جاتی ہے اور نمی کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث سر کی جلد اور بال اپنی قدرتی نمی کھو دیتے ہیں، اس صورتِ حال میں بال کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے بالوں کے جھڑنے میں اضافہ ہوتا ہے۔

خون کی گردش میں کمی:

سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سر کی جلد تک خون کی روانی کم ہو جاتی ہے، اس سے بالوں کی جڑوں کو آکسیجن اور غذائیت کم ملتی ہے، جو انہیں کمزور بنا دیتی ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی:

سردیوں میں دھوپ میں کم وقت گزارنے کے باعث وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے، چونکہ وٹامن ڈی بالوں کی صحت اور افزائش میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کی کمی بالوں کے فولیکلز کو کمزور کر سکتی ہے۔

گرم پانی سے غسل اور رگڑ:

بہت زیادہ گرم پانی سے سر دھونے سے بالوں کی قدرتی چکناہٹ ختم ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ ٹوپی، اسکارف یا اونی ٹوپی پہننے سے پیدا ہونے والی رگڑ بھی بالوں کے ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے۔

موسمِ سرما کے باعث بالوں کے جھڑنے کی عام علامات

اکثر افراد سو کر اُٹھنے پر تکیے پر بال دیکھتے ہیں یا نہانے کے دوران بالوں کے زیادہ جھڑنے کی شکایت کرتے ہیں، اس کے علاوہ خشک جلد، سر کی جلد پر موجود خشکی، بالوں کا پتلا ہونا اور بالوں کا غیر معمولی جھڑنا عام علامات میں شامل ہیں۔

احتیاطی تدابیر اور گھریلو نسخے

بالوں میں تیل لگانا:

موسمِ سرما میں باقاعدگی سے تیل لگانے سے بالوں کے جھڑنے میں کمی آ سکتی ہے، ناریل، بادام یا آرگن آئل سر کی جلد کو نمی فراہم کرنے اور خون کی گردش بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

انتہائی گرم پانی سے پرہیز:

ماہرین کا کہنا ہے کہ بال دھوتے وقت بہت زیادہ گرم پانی کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ قدرتی تیل ختم کر دیتا ہے، نیم گرم پانی بہتر انتخاب ہے۔

پانی کا مناسب استعمال اور متوازن غذا:

روزمرہ کی بنیاد پر پانی کی مناسب مقدار کے استعمال کے ساتھ ساتھ متوازن غذا جس میں آئرن، اومیگا 3 فیٹی ایسڈز اور ضروری وٹامنز شامل ہوں، استعمال کرنے سے بالوں کی جڑوں کو مضبوط ہوتی ہیں اور صحت مند نشوونما میں مدد ملتی ہے۔

بالوں کی دیکھ بھال اور تحفظ

سر کی مالش:

ہفتے میں ایک بار سر کی مالش خون کی گردش بہتر اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہے، ہلکے شیمپو اور کنڈیشنر کا استعمال خشکی اور بالوں کو جھڑنے سے بچا سکتا ہے۔

اسٹائلنگ ٹولز اور کیمیکلز سے گریز:

ہیئر ڈرائر، اسٹائلنگ ٹولز اور کیمیکل ٹریٹمنٹس کا زیادہ استعمال بالوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے، ماہرین قدرتی طور پر بال سکھانے اور باہر نکلنے سے قبل بالوں کو مکمل طور پر خشک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کیا جائے؟

اگر سر کی جلد پر جلن، شدید خارش، گچھوں کی صورت میں بالوں کا گرنا یا گنج پن نمودار ہوں تو ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

یہ علامات کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جس کے لیے پیشہ ورانہ تشخیص اور علاج درکار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ سردیوں میں بالوں کا بڑھتا ہوا جھڑنا پریشان کن ہو سکتا ہے، تاہم درست آگاہی، مستقل دیکھ بھال اور صحت مند عادات اپنا کر اس موسم میں بھی بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید