گیمبلنگ ایپ کی تشہیر میں ملوث پاکستانی معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے اپنے وزن میں نمایاں کمی کا سہرا صحت بخش اور صاف ستھرے جیل کے کھانے کے سر سجا دیا۔
حالیہ سماعت کے موقع پر ڈکی بھائی نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کی، اسی دوران انہوں نے اپنے وزن میں نمایاں کمی پر بھی بات کی۔
ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یوٹیوبر نے کہا کہ جیل کا کھانا بہت صاف ستھرا اور صحت بخش ہوتا ہے، یا تو جیل سے آٹا منگوا لینا چاہیے یا خود جا کر لے آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قیدیوں کو صرف روٹی اور پانی دیا جاتا ہے یا روٹی بھی نہیں ملتی، جبکہ حقیقت میں جیل کا کھانا صحت بخش اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔
جب ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا وہ جیل کے کھانے کی تشہیر کر رہے ہیں تو ڈکی بھائی نے جواب دیا کہ جیل کے بارے میں تشہیر کرنے جیسا ہے ہی کیا؟
اس سے قبل ایڈیشنل سیشنز جج منصور احمد قریشی نے عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 4 فروری تک توسیع کر دی تھی۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کیس کا ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔
این سی سی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر اپنے بھائی کی شادی کے باعث پیش نہیں ہو سکا۔
ڈکی بھائی خود بھی مبینہ طور پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کے معاملے میں تاحال زیرِ تفتیش ہیں۔
یوٹیوبر کو پہلی بار 17 اگست 2025ء کو اس وقت قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب این سی سی آئی اے حکام نے لاہور ایئر پورٹ سے انہیں اس الزام پر گرفتار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بغیر لائسنس جوئے کی ایپس کی تشہیر کی اور ممکنہ طور پر ان سے جڑی مالی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2025ء میں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی، جس کے بعد 26 نومبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔
بعد ازاں استغاثہ کی جانب سے عدالت میں کیس کا ریکارڈ اور چالان جمع کروا دیا گیا جبکہ ضبط شدہ آلات کی واپسی سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔