• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہار کی آمد آمد ہے، مگر سرائیکی وسیب میں اب بہار صرف کیلنڈر کی حد تک زندہ رہ گئی ہے۔ زمین پر شگوفے تو آ جاتے ہیں، مگر زندگی کے رنگ، آوازیں اور اجتماعی خوشیاں بہت پہلے خاموش کرا دی گئی ہیں۔ یہ خاموشی فطری نہیں، یہ مسلط کی گئی ہے۔ یہ موسم کی نہیں بلکہ ریاستی رویّے کی پیداوار ہے۔کبھی یہی بہار پورے پنجاب کے ساتھ ساتھ سرائیکی وسیب میں میلوں کی نوید لاتی تھی۔ بیساکھی کے میلے، فصل کٹنے کی خوشی، کسان کی محنت کا جشن اور دھرتی سے جڑے انسان کا اجتماعی اظہار ہوا کرتے تھے۔ یہ میلے صرف تفریح نہیں تھے بلکہ سماجی ربط، مقامی معیشت اور ثقافتی تسلسل کا ذریعہ تھے۔

ان میلوں میں کشتی، کبڈی، رسہ کشی جیسے دیسی کھیل ہوتے، جانوروں کی نمائش لگتی، اونٹوں کے دنگل، گھوڑا ناچ، نیزہ بازی جیسی روایات عوام کو اپنی طرف کھینچتیں۔ یہ سب سرگرمیاں کسی جرم کا نام نہیں تھیں، بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی علامت تھیں۔ آج ان سب کو ایک مبہم اصطلاح کے نیچے دفن کر دیا گیا ہے’’سیکورٹی خدشات‘‘۔شام ڈھلتی تو میلے ایک اور رنگ اختیار کرتے تھے۔ رات کو تھیٹروں میں ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال جیسی لوک داستانیں اسٹیج پر زندہ ہو جاتیں۔ لوک فنکار ہیر وارث شاہ پڑھتے، اور یوں محبت، مزاحمت اور سماجی جبر کے خلاف صدیوں پرانی آوازیں زندہ رہتیں۔ چنن پیر کا میلہ سرائیکی وسیب کا ایک بڑا تہذیبی حوالہ تھا۔ اسی طرح سخی سرورکا میلہ ہو یا ملتان میں حضرت شاہ شمس تبریزؒ کا عرس ،یہ سب اجتماعات اس خطے کے سماجی ستون تھے۔ یہاں مذہب اور ثقافت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ہم سفر تھے۔اسی تہذیبی زنجیر کی سب سے روشن کڑی خواجہ غلام فریدؒ ہیں۔ وہ سرائیکی زبان کے عظیم ترین شاعر، صوفی دانشور اور دھرتی کے ترجمان تھے۔ ان کی شاعری میں صحرا بولتا ہے، انسان سوال کرتا ہے اور خدا سے مکالمہ ہوتا ہے۔ ان کے عرس پر فریدی کلام گونجتا، کافیاں گائی جاتیں، لوک گلوکار دھرتی کی بات کرتے۔ آج وہاں بھی خاموشی ہے، ایک ایسی خاموشی جو انتظامی خوف نے مسلط کی ہے۔لیکن پابندیوں کی فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایمپلی فائر ایکٹ اس خطے میں ثقافت کے خلاف ایک اور خاموش ہتھیار بن چکا ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی لوک فنکار اگر کسی شادی، بیاہ یا خوشی کی تقریب میں سرائیکی گیت، کافی یا لوک کلام گا دے تو پولیس اسے اٹھا کر لے جاتی ہے۔ ڈھول کی تھاپ جرم بن چکی ہے، بانسری کی آواز مشکوک قرار دی جاتی ہے، اور گلوکار کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کوئی سماجی خطرہ ہو۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شادی بیاہ میں گانا بھی جرم ہے؟ کیا لوک گیت امن و امان کے لیے خطرہ ہیں؟ ایمپلی فائر ایکٹ کا استعمال شور کے ضابطے کے لیے تھا، ثقافت کی گردن دبانے کے لیے نہیں۔ مگر عملی طور پر یہی ہو رہا ہے۔ پولیس کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی خوشی، کسی بھی آواز اور کسی بھی فنکار کو قانون کے نام پر خاموش کرا دے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوک فنکار خوفزدہ ہیں، ثقافت سمٹ رہی ہے اور معاشرہ بے آواز بنتا جا رہا ہے۔

انتظامیہ ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ میلے اور تقریبات جوئے اور بدامنی کو جنم دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جوئے کے اڈے میلے بند ہونے کے بعد بھی پوری قوت سے چل رہے ہیں۔ بند صرف خوشی ہوئی ہے، بند صرف ثقافت ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ سکیورٹی نہیں، اصل مسئلہ کنٹرول اور خوف ہے۔سنگ میلہ جیسے ثقافتی پروگرام، جہاں کتاب، مکالمہ، فن اور اختلافِ رائے اکٹھا ہوتا تھا، وہ بھی بند کر دئیے گئے۔ پولیس اور انتظامیہ کا کام امن قائم رکھنا ہے، ثقافت کو کچلنا نہیں۔ اگر کہیں بدانتظامی ہے تو اس کا حل بہتر انتظام ہے، مکمل پابندی نہیں۔ سرائیکی وسیب کو اجتماعی سزا دینا آئین، انصاف اور دانش،تینوں کے خلاف ہے۔یہاں ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کی واحد ملتان آرٹس کونسل بھی اب اس پورے ثقافتی منظرنامے میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یہ ادارہ لکیر کا فقیر بن کر رہ گیا ہے، فنکاروں کی رہنمائی، میلوں کی میزبانی یا لوک موسیقی کے تحفظ میں بے بس ہے۔ لاہور یا دیگر شہروں کے مقابلے میں اس ادارے کو فنڈز بھی محدود دئیے جا رہے ہیں، جس سے ثقافت کی بقا مزید خطرے میں آ گئی ہے۔ اگر فنڈز اور عملی حمایت نہ ملے تو یہ ادارہ صرف کاغذی نام رہ جائے گا، اور وسیب کی لوک روایت اور میلوں کا سلسلہ بالکل ختم ہو جائے گا۔

ایک طرف لاہور میں بسنت کی بحالی پر ماڈل، کمیٹیاں اور تجاویز بنتی ہیں، اور دوسری طرف سرائیکی وسیب کے میلوں، بیساکھی، عرس، لوک موسیقی اور حتیٰ کہ شادی بیاہ کی خوشیوں کے لیے بھی جواب ایک ہی ہے ’’اجازت نہیں ہے‘‘۔ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟تاریخی حوالےکے طور پر، سرائیکی وسیب میں میلوں اور عرس کا سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔ ملتان میں شاہ شمس تبریزؒ کا عرس، سخی سرور کا میلہ، چنن پیر کا میلہ، اور خواجہ غلام فریدؒ کا عرس، سب اجتماعی شعور اور لوک ثقافت کے ستون ہیں۔ لوک گلوکار اور فنکار ان اجتماعات میں اپنی محافل سے عوام کو روشن کرتے رہے۔ یہ صرف خوشی نہیں، بلکہ سماجی تعلیم، انسانی رشتوں اور مقامی روایتوں کی حفاظت تھی۔آج لوگ ہنسنا چاہتےہیں لیکن انہیں ہنسنے نہیں دیا جا رہا۔اگر خوشیوں پر پہرے رہے، اگر میلوں کو جرم بنایا گیا، اگر ثقافت کو خطرہ سمجھا گیا، تو پھر صحرا بڑھیں گے، گلزار نہیں۔ اور تب مسئلہ صرف میلوں کا نہیں رہے گا، مسئلہ ریاست اور عوام کے رشتے کا ہو جائے گا۔

ہنڑ تھی فریدا شاد ول

مونجھاں کو نہ کر یاد ول

جھوکاں تھیسن آباد ول

ایہ نے نا واہسی ہک مڑیں

تازہ ترین