کتاب……
تمہاری کہانیوں کی کتاب شائع ہوئی ہے؟ مجو نے پوچھا۔
ہاں بالکل۔ میرا لہجہ پرجوش تھا۔
سنا ہے، آج کل اُس کا بہت چرچا ہورہا ہے۔ مجو مسکرایا۔
فیسٹیولز میں سیشن، اخبارات میں تبصرے لکھے جارہے ہیں۔
پڑھنے والوں کی محبت ہے، ورنہ میری کیا حیثیت۔
میں نے عاجزی سے کہا. مجو نے کھنکھار کر گلا صاف کیا۔
اچھا، کیا تمہاری کتاب کی اعزازی کاپی مل سکتی ہے؟
افسوس کاپیاں تو ختم ہوگئیں۔ میں نے بے بسی سے کہا۔
’اچھا‘اس بار لہجہ سخت تھا۔تو پی ڈی ایف دیدو ۔
افسوس، پی ڈی ایف بھی نہیں۔میں جھینپ گیا۔
حد ہے یار۔ مجو نے پاؤں پٹخے۔
’’اور پھر تم لوگ کہتے ہو، لوگ کتاب نہیں پڑھتے۔‘‘