چمن سے تعلق 18 سالہ نوجوان ریبیز میں مبتلا ہو کر کراچی کے انڈس اسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا تھا۔
یہ بات انڈس اسپتال میں ریبیز کلینک کے انچارج ڈاکٹر آفتاب گوہر نے بتائی ہے، جن کے مطابق متاثرہ نوجوان کو تقریباً 6 ہفتے قبل کتے نے کاٹا تھا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ نوجوان کو مقامی ڈاکٹر سے غیر مستند انجکشن لگوائے گئے اور ریبیز سے بچاؤ کی مکمل ویکسین نہیں دی گئی، نہ ہی زخم کی صفائی کی گئی۔
ڈاکٹر آفتاب گوہر نے بتایا ہے کہ چند روز قبل نوجوان کے زخم میں درد اور ذہنی کیفیت میں تبدیلی شروع ہوئی اور اسپتال پہنچنے پر نوجوان میں ہائیڈروفوبیا اور ایروفوبیا کی تصدیق ہوئی۔
انچارج ریبیز کلینک نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب مریض کے اہلِ خانہ کو مرض اور انجام سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نوجوان کو اسپتال میں داخل کروانے سے انکار کر دیا اور اسے گھر واپس لے گئے۔