امریکی نیوز ویب سائٹ کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا مقام اور طریقہ کار تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق علاقائی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ایران جمعے کو ہونے والے جوہری مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کروانا چاہتا ہے۔
سفارتکار نے کہا کہ ایران جمعے کے مذاکرات میں صرف جوہری بات چیت پر توجہ چاہتا ہے، ایران مذاکرات میں علاقائی ممالک کی براہ راست شمولیت نہیں چاہتا۔
ادھر ایران کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ترکیہ میں بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں جس کے لیے دونوں ممالک کے نمائندگان کی ملاقات کا دن بھی طے کرلیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات استنبول میں جمعہ کو شیڈول ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وٹکوف اور عراقچی ممکنہ طور پر جوہری معاہدے اور دیگر مسائل پر بات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کےلیے ایران پر زور دیتے رہے ہیں۔ یہ ملاقات اسی لیے ہے کہ صدر ٹرمپ کی بات سُنی جائے۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پُرامید ہوں کہ امریکا سے جوہری معاہدہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکا پر اعتماد نہیں، بات چیت مصالحت کار دوستوں کے ذریعے جاری ہے۔ بیلسٹک میزائل اور مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ چھوڑنے کی بات ناممکن ہے۔
اس سے قبل تہران میں تقریب سے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکا نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ بن جائے گی، اہل ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
اس بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امید ہے ہم جلد معاہدے پر پہنچ جائیں گے، اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ خامنہ ای نے ٹھیک کہا تھا یا نہیں۔ خامنہ ای علاقائی جنگ کی بات کیوں نہ کریں گے، ظاہر ہے وہ ایسا کہیں گے۔