• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگولا میں 97 ٹریلین ڈالرز کے نایاب معدنی ذخائر دریافت، فیصل رضا عابدی منصوبے کے چیف کنسلٹنٹ مقرر

— جنگ فوٹو
— جنگ فوٹو 

افریقی ملک انگولا میں97 ٹریلین ڈالرز کے نایاب معدنی ذخائر کی دریافت نے عالمی سطح پر مائننگ، ٹیکنالوجی اور ڈیفنس انڈسٹری میں زبردست توجہ حاصل کرلی ہے۔ 

ان ذخائر کی آسٹریلین اور ملائیشین مائننگ کمپنیوں کی جانب سے ایک طویل تحقیق، جغرافیائی سروے اور جدید سائنسی ٹیسٹنگ کے بعد تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ذخائر میں 17 انتہائی قیمتی اور نایاب معدنی ذخائر شامل ہیں جو جدید دفاعی نظام، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس بڑے بین الاقوامی مائننگ منصوبے کے لیے پاکستان کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کو باضابطہ طور پر چیف کنسلٹنٹ مقرر کردیا گیا ہے۔ 

یہ منصوبہ افریقن ٹوبیکو کمپنی اور متحدہ عرب امارات کے رائل بزنس گروپ کے اشتراک سے شروع کیا جارہا ہے جبکہ پین افریقن ٹوبیکو گروپ انگولا کی معیشت میں ایک اہم اور مستحکم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

اس منصوبے کے تحت تقریباً 300 اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل وسیع اراضی مختص کی گئی ہے جہاں ابتدائی مراحل میں مائننگ انفرا اسٹرکچر کی تیاری جاری ہے۔

جاپان میں منصوبے کی رابطہ کاری، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے لیے پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین کو باضابطہ طور پر جاپان میں منصوبے کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ جاپانی سرمایہ کاروں اور صنعتی اداروں کے ساتھ رابطے، مذاکرات اور آئندہ کے لائحہ عمل کی نگرانی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق جاپان کی معروف صنعتی کمپنیاں مٹسوبشی اور ہٹاچی جبکہ جنوبی کوریا کی عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے بھی اس مائننگ منصوبے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 

ان کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات اور ممکنہ شراکت داری پر بات چیت کے لیے فیصل رضا عابدی اس وقت جاپان میں موجود ہیں۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انگولا کی معیشت میں انقلاب لا سکتا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے بھی مستقبل میں اسٹریٹجک، معاشی اور ٹیکنالوجیکل مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید