• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، میئر نیویارک ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا

ظہران ممدانی---فائل فوٹو
ظہران ممدانی---فائل فوٹو

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو حجاب کو عقیدت، شناخت اور فخر کی علامت قرار دینے والی پوسٹ پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

 یہ پوسٹ ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر ان کے دفتر برائے امورِ مہاجرین کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، جسے ایران میں لازمی حجاب کے خلاف جاری احتجاجی صورتِ حال کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پوسٹ میں کہا گیا تھا آج ہم دنیا بھر کی اُن مسلم خواتین اور بچیوں کے عقیدے، شناخت اور فخر کا جشن منا رہے ہیں جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، جو عقیدت کی ایک طاقتور علامت اور مسلم ورثے کی نمائندگی ہے۔

اس پیغام پر سماجی کارکنوں اور مبصرین نے سخت اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پوسٹ کا لب و لہجہ ایران میں خواتین کو درپیش زمینی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے، جہاں حجاب پہننے سے انکار پر خواتین کو گرفتار، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض کو ہلاکت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ایرانی نژاد امریکی صحافی مسیح علی نژاد نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ظہران ممدانی کو براہِ راست مخاطب کیا۔

انہوں نے لکھا کہ مسٹر ظہران ممدانی، واقعی؟ اس وقت؟ سچ کہوں تو مجھے نیویارک جیسے خوبصورت شہر میں رہتے ہوئے اذیت محسوس ہو رہی ہے، جب آپ ورلڈ حجاب ڈے منا رہے ہیں اور میرے زخمی وطن ایران میں خواتین کو حجاب اور اس کے پیچھے موجود اسلامی نظریے کو مسترد کرنے پر قید، گولیوں اور موت کا سامنا ہے۔

مسیح علی نژاد نے میئر پر الزام لگایا کہ وہ ہمارے جیلروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران میں کریک ڈاؤن پر خاموشی کے ساتھ اس پوسٹ کو شرمناک قرار دیا۔

فرانسیسی مصنف اور سماجی کارکن برنارڈ ہنری لیوی نے بھی پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے اس کے وقت اور پیغام دونوں پر سوال اٹھائے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ورلڈ حجاب ڈے؟ یہ کیسے ممکن ہے جب ایران میں ہزاروں خواتین محض حجاب نہ پہننے پر قید، تشدد اور قتل کا سامنا کر رہی ہیں، تو ایسے میں حجاب کا جشن منانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

ترک نژاد امریکی ماہرِ معاشیات اور سیاسیات تیمور کوران نے بھی پوسٹ کو کئی حوالوں سے نامناسب قرار دیا ہے۔

یہ ردِعمل ظہران ممدانی کے ماضی کے بیانات کے برعکس ہے، جن میں انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی تھی۔

گزشتہ سال انہوں نے بتایا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ان کی خالہ نے حجاب پہننے کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور سب وے میں سفر کرنا چھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سیاست میں آنے پر انہیں اپنے عقیدے کو نجی رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید