امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی سماعت کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندہ پرمیلا جے پال نے کمرے میں موجود جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم وہ لوگ اپنا ہاتھ اٹھائیں جو ابھی تک اس محکمۂ انصاف کے حکام سے ملاقات نہیں کر سکے۔
پرمیلا جے پال کے کہنے پر کمرے میں موجود جیفری ایپسٹین کے تمام متاثرین نے اپنا ہاتھ اُٹھایا۔
یہ منظر دیکھنے کے بعد پرمیلا جے پال نے پام بونڈی سے پوچھا کہ کیا آپ محکمۂ انصاف کے اس رویے پر ان سے معذرت کریں گی؟
پام بونڈی نے متاثرین سے معافی مانگنے کے بجائے اپنے پیشرو میرک گارلینڈ کا حوالہ دینا شروع کیا، جب پرمیلا جے پال نے اپنی درخواست دہرائی تو اُنہوں نے کہا کہ میں معافی بالکل نہیں مانگوں گی۔
کمیٹی کے رینکنگ ممبر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے جیمی راسکن نے بھی پام بونڈی سے محکمۂ انصاف کے طریقہ کار پر سوال کیا۔
انہوں نے امریکی اٹارنی جنرل پر مجرموں کا ساتھ دینے اور متاثرین کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگایا۔
جس کے بعد پام بونڈی نے جیمی راسکن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ہارے ہوئے وکیل ہیں بلکہ آپ وکیل ہی نہیں ہیں۔