• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھائی کی جبری گمشدگی سے خاندان ذہنی کوفت میں مبتلا ہے، ہمشیرہ

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)کوئٹہ کی رہائشی علشبہ سمالانی نے کہا ہے کہ جبری طور پر لاپتہ کئے گئے ان کے بھائی حسنین احمد سمالانی کا 12 روز گزرنے کے باوجود تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں ان کے بارے میں معلومات دی جارہی ہیں جس سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے ،یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں چیئرمین نصراللہ بلوچ اور حوران بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ 3 فروری کی شب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں بغیر سرچ وارننگ کے ہمارے گھر واقع اصغر آباد سریاب کسٹم پر چھاپہ مارا اور مکمل تلاشی لینے کے بعد میرے چھوٹے بھائی 16 سالہ حسنین احمد ولد بابل جان سمالانی جو طالب علم ہے کو پوچھ گچھ کا کہہ کر اپنے ہمراہ لے گئے متعدد بار انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے باوجود ہمیں کوئی معلومات نہیں دی جارہیں 12 روز گزرنے کے باوجود حسنین احمد کو نہ تو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ہمیں اس کی خیریت سے آگاہ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے انہوں نے کہا کہ معصوم بے گناہ شہریوں کو اس طرح ماورائے قانون گرفتار کرکے لاپتہ کرنا شہریوں کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ اس کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیا جائے اور ہمارے بھائی کی بحفاظت بازیابی کیلیے اقدامات کیے جائیں۔
کوئٹہ سے مزید