• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سکھر، اتائی ڈاکٹرز کی بھرمار، زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف، محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران کی چشم پوشی

سکھر (بیورو رپورٹ) محکمہ صحت اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی عدم توجہی کے سبب ضلع بھر میں اتائی ڈاکٹرز کی بھرمار، غیر تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار اتائی ڈاکٹرز انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف، پسماندہ و دیہی علاقوں کے سادہ لوح عوام سب سے زیادہ متاثر، متعلقہ محکموں کے افسران نے چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔ شہر و نواحی علاقوں میں اتائی ڈاکٹرز نے جگہ جگہ اپنے کلینکس قائم کررکھے ہیں، جہاں وہ مریضوں کے معائنہ کے نام پر مرض کی تشخیص کئے بغیر مختلف اقسام کی ادویات لکھ کر دیدیتے ہیں، جن کے استعمال سے لوگ دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، اس سلسلے میں عدالت کی جانب سے محکمہ صحت کے افسران کو سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ تمام اتائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی کلینکس کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ، اتائی ڈاکٹروں کی کلینکس کو سیل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں تاہم عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اتائی ڈاکٹرز انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں بدستور مصروف ہیں، زیادہ تر اتائی ڈاکٹرز مریضوں کو اینٹی بائیو ٹیکس لکھ کر دیتے ہیں جس سے مریضوں کو وقتی طور پر فائدہ ملتا ہے تاہم ان کے سائیڈ ایفکٹس سے دیگر بیماریاں پھیلتی ہیں۔ شہری و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران کی جانب سے اتائی ڈاکٹرز کیخلاف کارروائی نہ کئے جانا انتہائی افسوس ناک ہے، سادہ لوح عوام اتائی ڈاکٹرز کا سب سے آسان شکار ہیں، گلی و محلوں میں جگہ جگہ اتائی ڈاکٹرز کے کلینکس قائم ہیں، جو کہ متعلقہ محکموں کے افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ ودیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے اتائی ڈاکٹرز کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تمام اتائی ڈاکٹرز کے کلینکس کو بند کرایا جائے اور اتائی ڈاکٹرز کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

ملک بھر سے سے مزید