• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری زمین پر دعویٰ صرف میوٹیشن سے ثابت نہیں ہوتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری اراضی پر ملکیت کا دعوی صرف میوٹیشن کے اندراج یا جرح کے دوران کسی دستاویز کے ذکر سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دعویٰ کرنیوالے پر لازم ہے کہ وہ بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی زمین کو ناقص شہادت یا ماتحت اہلکاروں کی کوتاہی کی بنیاد پر نجی ملکیت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔تفصیلی تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس میاں گل اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 1600-ایل/2014کی سماعت کے بعد جاری کیا۔مقدمہ ضلع بھکر کی 66کنال 9مرلہ اراضی سے متعلق تھا جو چک نمبر 61ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر میں واقع ہے۔ درخواست گزاروں (حکومت پنجاب بذریعہ ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو/کلکٹر بھکر و دیگر) کا موقف تھا کہ مذکورہ زمین تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) کی ملکیت تھی اور سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسکی الاٹمنٹ قانونی طور پر ممکن نہیں تھی۔ موقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ ریونیو حکام، بشمول ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) سرگودھا اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر لاہور کے احکامات کے تحت زمین حکومت کے نام بحال کی جا چکی تھی۔دوسری جانب مدعیان نے دعوی کیا کہ زمین آر ایل-ٹو نمبر 188 کے ذریعے الاٹ ہوئی، جس کے بعد میوٹیشن نمبر 1 منظور ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے یہ اراضی خرید لی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مدعیان اپنے دعوے کی بنیاد یعنی آر ایل-ٹو نمبر 188 کو بطور بنیادی دستاویز عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانونِ شہادت کے تحت جو فریق کسی حق کا دعوی کرے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعوے کو قابل قبول شواہد سے ثابت کرے۔ محض جرح کے دوران کسی دستاویز کا ذکر یا میوٹیشن اندراجات ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتے۔
ملک بھر سے سے مزید