لاہور (آصف محمود بٹ)پنجاب میں جیل افسروں کی چھٹیاں بند، اجتماعی غیر حاضری پر آئی جی کا اظہارِ تشویش،ایڈیشنل و ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کی رخصت صرف ڈی آئی جی کی منظوری سے مشروط، ریجنز اور جیلوں کے اچانک دوروں کا اعلان۔ Red letter days اور معائنوں کے دوران غیر حاضری سکیورٹی رسک قرار، خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی کا انتباہ۔ پنجاب کی جیل انتظامیہ نے صوبہ بھر میں جیل افسران کی اتفاقیہ رخصتوں پر سخت اور جامع پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ انسپکشن اور دیگر اہم مواقع سے قبل نگران عملے کی اجتماعی غیر حاضری کے رجحان پر گہری تشویش کے اظہار کے بعد کیا گیا ہے۔ ’جنگ‘ کو ملنےوالی دستاویزات کے مطابق 15فروری 2026کو لاہور سے جاری ہونے والے احکامات میں انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب نے اس امر کو ’’سنگین تشویش‘‘ قرار دیا ہے کہ انسپکشنز اور "ریڈ لیٹر ڈیز" کے دوران ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹس جیل، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس جیل اور ماتحت عملے کی اکثریت رخصت پر پائی گئی۔احکامات میں خبردار کیا گیا ہے کہ حساس مواقع پر نگران افسران کی عدم موجودگی نہ صرف انتظامی تیاریوں میں کمزوری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ جیلوں کی سکیورٹی اور آپریشنل نظام کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ پنجاب کے تمام ریجنل ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (ڈی آئی جیز) اور سپرنٹنڈنٹس جیل کو ارسال کی گئی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ معائنوں اور دیگر حساس ادوار میں ذمہ دار افسران کی موجودگی موثر نگرانی، ادارہ جاتی نظم و ضبط، ہنگامی ردعمل اور مجموعی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔انتظامی کنٹرول، آپریشنل تیاری اور ادارہ جاتی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے انسپکٹریٹ کی جانب سے فوری اور سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کی کسی بھی قسم کی رخصت کی درخواست متعلقہ سپرنٹنڈنٹ جیل کی باقاعدہ سفارش کے بعد متعلقہ ریجن کے ڈی آئی جی کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ ان افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رخصت کی مکمل تفصیلات رپورٹ بکس میں درج کریں اور ڈی آئی جی ریجن کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر جیل حدود سے باہر نہ جائیں۔اتفاقیہ رخصت کی منظوری کا اختیار مکمل طور پر ڈی آئی جی ریجن کو سونپ دیا گیا ہے، جو منظوری سے قبل متعلقہ افسر کے کیژول لیو اکاؤنٹ کی جانچ پڑتال کرے گا۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک منظوری دینے والا افسر اس امر سے مطمئن نہ ہو کہ درخواست کردہ رخصت واجب الادا ہے اور کیلنڈر سال کے دوران پہلے سے حاصل کی گئی رخصت ملازمت کی مدت کے تناسب سے زیادہ نہیں، تب تک کیژول لیو منظور نہیں کی جائے گی۔مزید برآں ہر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل کا باقاعدہ Casual Leaveکاؤنٹ مقررہ فارمیٹ میں ڈی آئی جی ریجن کے دفتر میں برقرار رکھا جائے گا۔ سالانہ اور اچانک معائنوں کے دوران انسپکٹنگ افسران اور انسپکشن ٹیمیں ان ریکارڈز کی جانچ کریں گی اور اپنی سرکاری رپورٹ کا حصہ بناتے ہوئے عملدرآمد کی تصدیق کریں گی۔تحریک و نقل و حرکت پر مزید قدغن عائد کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اتفاقیہ رخصت یا تعطیلات کے دوران مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ہیڈکوارٹر نہیں چھوڑے گا۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس جیل اور دیگر عملے کے لیے بھی رخصت کا طریقہ کار باقاعدہ بنا دیا گیا ہے، جس کے تحت درخواستیں پہلے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کی سفارش اور بعد ازاں سپرنٹنڈنٹ جیل کی تحریری منظوری سے مشروط ہوں گی، تاکہ درجہ بدرجہ جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سے انسپکٹوریٹ آف پرزنز پنجاب صوبہ بھر میں ڈی آئی جی ریجنز کے دفاتر اور جیلوں کے دورے شروع کرے گا۔ ان دوروں کے دوران Casual Leave ریکارڈز کا خصوصی طور پر جائزہ لیا جائے گا تاکہ نئی ہدایات پر عملدرآمد کا عملی طور پر اندازہ لگایا جا سکے۔ہدایات میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران مذکورہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر کسی بھی انحراف کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے حکم پر ڈی آئی جی (ہیڈکوارٹرز) کی جانب سےجاری کردہ یہ احکامات ضروری کارروائی کے لیے صوبائی سیکرٹری داخلہ ؛ پرنسپل پنجاب پریزنز اسٹاف ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ لاہور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ایڈمن)، انسپکٹریٹ آف پرزنز پنجاب لاہور اور انچارج ایڈمن برانچ، انسپکٹریٹ آف پرزنز پنجاب لاہور کو بھی ارسال کر دیئے گئے ہیں۔محکمہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صوبائی جیل نظام میں سخت کمانڈ اسٹرکچر اور انتظامی تسلسل کی بحالی، معائنوں اور حساس مواقع پر نگران افسران کی لازمی موجودگی اور جوابدہی کو یقینی بنانا اور پنجاب کی جیلوں میں ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔