• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

(1)بلڈ ٹیسٹ کے لیے اپنا خون نکلوانے یا کسی شدید ضرورت مند مریض کو خون کا عطیہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر خون دینے سے اتنی جسمانی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے کے قابل نہ رہے ،تو روزے کی حالت میں اس سے اجتناب کرے۔

(2)کان میں دوا یا تیل ٹپکانے یا دانستہ پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، سوائے اس کے کہ خدانخواستہ کسی شخص کے کان کا پردہ پھٹا ہواہو اور اس سے پانی یا دوا رِس کر معدے یادماغ تک پہنچ جاتی ہو ،تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(3)ہماری تحقیق کے مطابق آنکھ میں دوا ڈالنے یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، بعض علماء کے نزدیک اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث میں صریح حکم نہ ہو، وہ مسئلہ اجتہادی کہلاتا ہے، اس میں لوگوں کو جس عالم پر اعتماد ہو، اُس کے فتوے پر عمل کریں، ڈاکٹر وھبہ الزحیلی لکھتے ہیں: ’’ جلد کے اندرپٹھوں میں یا رگوں میں انجکشن لگانا ہوتوبہتر یہ ہے کہ روزے کی حالت میں نہ لگائے ، افطار کے وقت تک انتظار کرے ،اگر رگوں میں خون چڑھائے گا، تو روزہ فاسد ہوجائے گا، (فقہ الاسلامی وادِلّتہ، جلد3،ص: 1412)‘‘۔

(4)(الف)روزے کی حالت میں خود بخود غیر اختیاری طور پر قے آئے اور حلق میں واپس نہ لوٹائی جائے تو کسی صورت میں اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، اگرچہ کتنی ہی زیادہ قے آئے،(ب) خود بخود غیر اختیاری منہ بھر قے آئی اور ساری یا کم از کم چنے کی مقدار واپس حلق میں لے گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، لیکن اگر خود بخود حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح اگر منہ بھر سے کم تھی تو اسے حلق میں لے جائے یا خود بخود چلی جائے، اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا،(ج) اگر جان بوجھ کر قے کی جائے، پس اگر ایسی قے منہ بھر کر آجائے تو خواہ واپس حلق میں کچھ بھی نہ نگلے، روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(5)نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبانی نیت ضروری نہیں ہے، مستحب ہے۔ اگر رات ہی سے نیت کرنا چاہے تو کرسکتاہے ، اِس صورت میں ان الفاظ کے ساتھ نیت کرے: ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لیے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں ‘‘۔ 

صبح صادق یعنی سَحری کے وقت یا سَحری کے بعد کرنا چاہے، تو ان الفاظ کے ساتھ نیت کرے :’’ میں اللہ تعالیٰ کے لیے آج کے روزے کی نیت کرتاہوں ‘‘ اگر نصف النہار شرعی سے پہلے نیت کرے تو یہ کہے: ’’میں آج صبح سے روزے سے ہوں‘‘۔ اگر دل میں نیت ہے اور زبان سے روزے کی نیت کے الفاظ ادانہیں کیے ، تو اس سے روزے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

(6)سَحری سے پہلے غسل جنابت واجب ہوچکا تھا مگر سَحری ختم ہونے سے پہلے غسل نہ کرسکا یا دن میں روزے کے دوران نیند کی حالت میں جُنبی ہوجائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اور نہ اِس سے اجر میں کمی واقع ہوتی ہے، البتہ واجب غسل کو اتنی دیر تک مؤخر کرنا کہ ایک فرض نماز کا وقت گزر جائے، حرام ہے، کیونکہ اِس سے نماز قضا ہوجائے گی۔

(7) وضو کے دوران مسواک کرنا عام دنوں میں بھی سنّت ہے اور رمضان المبارک کے دوران روزے کی حالت میں بھی سنّت ہے، حضرت عامر بن ربیعہؓ بیان کرتے ہیں: ’’ میں نے بہت مرتبہ نبی اکرمﷺ کو روزے میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا، (ترمذی: 725)‘‘۔ روزے کی حالت میں فقہائے احناف نے مسواک کی اجازت دی ہے، خواہ وہ خشک ہو یا تریا اس میں کوئی ذائقہ محسوس ہوتا ہو۔ ترمسواک کی لکڑی کاکوئی ریشہ حلق میں چلاگیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔

منجن، ٹوتھ پاؤڈر اور پیسٹ اس سے مختلف ہے کہ اس میں ذائقہ بہت محسوس ہوتاہے، نہ اس پر مسواک کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ مسواک کی سنّت ادا کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے، حتی الامکان روزے کی حالت میں اس کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ اگر اس کے ذرّات حلق میں واضح طور پر محسوس ہوں اور اس کا قوی اندیشہ بھی ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا، غرض منجن یا ٹوتھ پاؤڈر یا پیسٹ سے ممانعت کا مشورہ احتیاط کی بناءپر ہے کہ بعض اوقات غیر ارادی طور پر اس کے ذرات حلق میں چلے جانے کا امکان رہتا ہے۔

(8) روزے کی حالت میں خوشبو استعمال کرسکتے ہیں، ناخن کاٹ سکتے ہیں، بالوں کو تیل لگاسکتے ہیں، اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

(9) دَمے کا مریض جو آلۂ تَنَفُّس (Inhaler)کے استعمال کے بغیر دن نہیں گزار سکتا، وہ معذور ہے اور اسے اس بیماری کی بناءپر روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،اگر یہ مرض دائمی ہے، تو وہ فدیہ ادا کرے۔ اگر روزہ رکھ لیا ہے اورمرض کی شدّت کی بناء پر انہیلر استعمال کیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، روزہ رکھنے کی استطاعت ہوتو بعد میں قضا کرے، ورنہ فدیہ ادا کرے۔

انہیلر میں اگرچہ گیس ہوتی ہے اور ہوا حلق میں جاتی بھی رہتی ہے اور خارج بھی ہوتی ہے، آکسیجن پر تو زندگی کا مدار ہے، لیکن انہیلر میں آکسیجن کے ساتھ ایک کیمیکل بھی ہوتا ہے، جوحلق کے راستے معدے تک پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اس کے سبب سکڑے ہوئے پھیپھڑے کھُل جاتے ہیں اور سانس لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

(10) انتہائی درجے کے ذیابیطس کے مریض یا ایسے تمام اَمراض میں مبتلا مریض جن کو خوفِ خدا رکھنے والا کوئی دین دار ماہر ڈاکٹر مشورہ دے کہ وقفے وقفے سے دوا استعمال کرو یا پانی پیو یا خوراک استعمال کرو، ورنہ مرض بے قابو ہوجائے گا یا کسی عضو یاجان کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے، تو ایسے تمام لوگ شرعی معذور ہیں، اُنہیں شریعت نے رخصت دی ہے کہ روزہ نہ رکھیں اور فدیہ ادا کریں۔لیکن اگر فدیہ ادا کردیا ہے اور بعد میں اللہ نے اپنے فضل وکرم سے اُس بیماری سے صحت عطاکردی ، تو قضا بھی کرے، فدیہ میں دیے ہوئے مال کا ثواب اُسے مل جائے گا۔

(11)قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا دو وقت کا کھانا مقرر کیا ہے، ہر روزے دار اپنے معیار اور مالی استطاعت کے مطابق فدیہ ادا کرے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :’’سو جو شخص خوش دلی کے ساتھ فدیے کی مُقرر ہ مقدار سے زیادہ اداکرے تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے ،(سورۃ البقرہ:184)‘‘، 

فدیہ اور فطرے کی مقدار برابر ہے، اس لیے ہر شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق دوکلو گندم یا چار کلو جو یا چار کلو کھجور یا چار کلو کشمش یاپنیر کی قیمت فدیے اور فطرے کے طور پر ادا کرے، ہمارے ہاں جو دو کلو گندم یا اُس کے مساوی قیمت بتائی جاتی ہے، یہ فطرے اور فدیے کی کم از کم مقدار ہے۔

(12)اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں مسافر یا عارضی مریض کو عذر کی بناء پرروزہ چھوڑنے کی رخصت دی ہے، لیکن یہ بھی فرمایا: ’’اور اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو، (سورۃالبقرہ:184)‘‘،

حدیث پاک میں ہے:’’حضرت حمزہ بن عمرواسلمی نے بارگاہِ رسالتﷺ میں عرض کی: میں سفر میں روزہ رکھتا ہوں اور وہ کثرت سے روزہ رکھنے والے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں اختیار ہے چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو،(بخاری: 1943)‘‘۔ 

مسافر یا عارضی مریض فدیہ دے کر روزے کی فرضیت سے عہدہ برا نہیں ہوں گے، بلکہ اُنہیں سفر سے واپسی یا صحت یاب ہونے کے بعد عذر کی بناء پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوگی۔ (جاری ہے)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید