کراچی، اسلام آباد (نیوز ڈیسک، نیوز رپورٹر) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز ، فیلڈ مارشل و آرمی چیف عاصم منیر کی تعریفیں کی ہیں، انہوں نے کہا کہ عاصم منیر بہترین فائٹر اور زبردست شخصیت کے حامل ہیں ، وزیراعظم شہباز کو پسند کرتا ہوں، پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کیساتھ تعلقات مضبوط بنے، پاک بھارت جنگ کے دوران 11 طیارے مار گرائے گئے، لڑائی شدت اختیار کرگئی تھی، میں نے دونوں کو جنگ نہ روکنے پر 200 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی، ایک شخص نے چیخ کر کہا، ایسا نہ کرنا، ٹرمپ نے کہا کہ اتحادی ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے 7ارب ڈالر دے دیئے ہیں جبکہ امریکا عالمی تنازعات کے خاتمے کیلئے 10ارب ڈالر دے گا، غزہ کے لوگوں کیلئے بہتر مستقبل چاہتے ہیں، لگتا ہے حماس غیر مسلح ہوجائے گی، ایران سے 10 دن میں کسی حل تک پہنچ جائینگے، معاہدہ آسان نہیں ، ایران نے 10دن میں معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے ،دوسری جانب غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کا کام "جنگ بندی کی نگرانی کرنا اور قابض اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے سے روکنا" ہونا چاہیے۔ انہوں نے غیر مسلح ہونے کے بارے میں براہِ راست وعدہ کیے بغیر کہا کہ اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار علی شعث کی سربراہی میں فلسطینی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل امریکی حمایت یافتہ کمیٹی کے حوالے کرنےکیلئے تیار ہے، لیکن اسرائیل اس گروپ کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اسرائیل نے ابھی تک ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صورتحال کی نزاکت پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہمیں اس منصوبے کو درست طریقے سے نافذ کرنا ہوگا۔ غزہ کے لیے کوئی پلان بی نہیں ہے۔ پلان بی کا مطلب دوبارہ جنگ کی طرف جانا ہے، اور یہاں موجود کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہتا۔