• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سول سروسز کے جنریشن زی افسران کی تربیت کا نیا قومی ماڈل متعارف

لاہور (آصف محمود بٹ) سول سروسز کے جنریشن زی افسران کی تربیت کا نیا قومی ماڈل متعارف۔ چاروں صوبائی سول سروسز اکیڈمیز کیلئے سرٹیفکیشن پروگرام کا آغاز، پری انڈکشن مرحلے پر شواہد پر مبنی نگرانی کا باقاعدہ نظام نافذ۔ڈی جی سی ایس اے فرحان عزیزخواجہ نے کہاکہ جین زی افسران کی مؤثر تیاری کیلئے اختیارات کی وضاحت، نفسیاتی فہم اور منظم گورننس ٹولز ناگزیر ہیں۔پاکستان کی سول بیوروکریسی کی تشکیل کے بنیادی مرحلے پر ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے اکیڈمک گروپ انچارجز (اے جی آئیز) کے پہلے سرٹیفکیشن پروگرام کا باضابطہ اختتام کرتے ہوئے فیکلٹی نگرانی اور تربیتی گورننس کا ایک نیا، منظم اور شواہد پر مبنی قومی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پری انڈکشن سطح پر پروبیشنری افسران کی تربیت کے ڈھانچے کو ازسرِنو متعین کرتا ہے بلکہ آئندہ برسوں میں سول سروس کے ادارہ جاتی کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سی ایس اے کے حکام کے مطابق یہ اصلاحات اس پس منظر میں کی گئی ہیں کہ سول سروس میں شامل ہونے والی نئی نسل جسے جنریشن زی (Gen-Z) کہا جاتا ہے، اپنی نفسیاتی ساخت، ڈیجیٹل وابستگی، اتھارٹی کے بارے میں رویوں اور پیشہ ورانہ حدود کے تصور کے اعتبار سے سابقہ نسلوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
اہم خبریں سے مزید