رمضان وقت کی دیوارپر لگی ہوئی کوئی تاریخ نہیںیہ باطن میں اترنے والا موسم ہے۔ یہ کیلنڈر کا صفحہ نہیں پلٹتا، یہ انسان کے اندر کوئی دروازہ کھولتا ہے۔ شہر ویسے ہی رہتے ہیں، سڑکیں وہی، بازار وہی، مگر فضا میں ایک غیر مرئی ارتعاش پیدا ہو جاتاہے۔جیسے خاموشی نے اچانک بولنا سیکھ لیا ہو۔ دن کے اوقات میں بھوک ایک خالی کمرہ بن جاتی ہے اور اس کمرے میں انسان اپنی آواز پہلی بار صاف سنتا ہے۔ پیاس ہونٹوں کو خشک کرتی ہے مگر اندر کہیں ایک چشمہ پھوٹتا ہے۔ جسم تھکتا ہے، ارادہ جاگتا ہے۔ یہ تضاد نہیں، یہ ترتیب ہے۔ایک الٰہی ترتیب۔جس میں کمی کمال بن جاتی ہے اور انتظار عبادت۔رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل شور سکوت میں پیدا ہوتا ہے۔ افطار کی میز پر رکھی ایک کھجور محض خوراک نہیں رہتی، وہ شکرگزاری کا استعارہ بن جاتی ہے۔ ایک گھونٹ پانی صرف پیاس نہیں بجھاتا، وہ انسان کو اس کی حد یاد دلاتا ہے۔ پیشانیاں جب خاک پر جھکتی ہیں تو مٹی ذلت نہیں رہتی، بلندی کا زینہ بن جاتی ہے۔ آنکھیں نم ہوتی ہیں مگر بصیرت روشن ہو جاتی ہے۔ اور اسی لمحے آدمی سمجھتا ہے کہ وہ وقت کے اندر نہیں، وقت اسکے اندر گزر رہا ہے۔میں نے اس خاموش انقلاب کو ایک شخص کی صورت میں دیکھا۔عبدالرزاق ساجد۔ وہ بلند آواز نہیں رکھتے، مگر ان کے ارادے کی بازگشت دور تک سنائی دیتی ہے۔ وہ سادہ لباس پہنتے ہیں، مگر ان کے خوابوں کی قامت بہت اونچی ہے۔ ان کے لہجے میں نرمی ہے، مگر فیصلوں میں فولاد۔ ایسے لوگ اعلان نہیں کرتے، عمل کرتے ہیں۔ وہ جلوس نہیں نکالتے، راستے بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ چلتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قیادت شور سے نہیں، شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ایک وقت تھا جب وہ میرے بڑے بھائی محمد اشفاق چغتائی کے ساتھ انجمن طلبائے اسلام پنجاب کی تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ وہ نوجوانی کے دن تھے۔جذبے کے، یقین کے اور مسلسل حرکت کے۔ پھر وقت نے انہیں مرکزی صدر کی ذمہ داری تک پہنچایا۔ مگر انہوں نے منصب کو زینہ بنایا، تخت نہیں۔ یہ فرق معمولی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ عہدوں پر چڑھ کر بدل جاتے ہیں کچھ لوگ عہدوں کو بدل دیتے ہیں۔ وہ دوسری قسم کے آدمی تھے۔پھر ہجرت آئی۔ برطانیہ کی زمین نے انہیں ایک نئی وسعت دی، مگر ان کے دل میں میاں چنوں کی مٹی کی خوشبو باقی رہی۔ انہوں نے فاصلے کو رکاوٹ نہیں، پُل بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ نیت اگر روشن ہو تو جغرافیہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ خواب جو ایک شہر کی گلی میں جنم لیتا ہے، دوسرے براعظم میں حقیقت بن سکتا ہے۔اگر ارادہ مسلسل رہے۔المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ اسی تسلسل کی پیداوار ہے۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں یہاں نیت انتظام میں ڈھلتی ہے اور دعا منصوبہ بن جاتی ہے۔ چند ہاتھوں سے شروع ہونے والا سفر آج ہزاروں ہاتھوں کی طاقت بن چکا ہے۔ رمضان کی راتوں میں کی گئی دعائیں اب دن کی روشنی میں عمارتوں کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ یہاں فقر کمزوری نہیں، تحریک ہے۔ یہاں فیاضی رسم نہیں، نظام ہے۔ یہاں خدمت جذباتی ردِعمل نہیں، مستقل حکمتِ عملی ہے۔اسلام آباد میں اس ادارے کے آئی ہسپتال کی پریزنٹیشن دیکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے خواب نے اینٹوں کا لباس پہن لیا ہو۔ جیسے نقشہ صرف کاغذ پر نہ رہا ہو بلکہ زمین نے اسے قبول کر لیا ہو۔ یہ عمارت دیواروں کا مجموعہ نہیں، امکان کا مینار ہے۔ یہ علاج گاہ بھی ہے اور عہد گاہ بھی۔ یہاں اندھا پن تقدیر کا آخری جملہ نہیں، ایک نئی سطر کا آغاز ہے۔
یہ ہسپتال طب کی ترقی کا منصوبہ ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر انسانی وقار کی بحالی کا اعلان ہے۔ یہاں آپریشن تھیٹر میں صرف آنکھیں نہیں کھلیں گی، زندگیاں کھلیں گی۔ یہاں تاریکی کو میز پر لٹا کر روشنی کی صورت واپس بھیجا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی ہوگی، تحقیق ہوگی، آئی بینک ہوگا، اسٹیم سیل ریسرچ ہوگی۔مگر ان سب کے مرکز میں انسان ہوگا۔ اس کی عزت، اس کی امید، اس کا حق۔سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہاں مفت آپریشنز ہوں گے۔ مفت آنکھوں کی پیوندکاری ہوگی۔ وہ لوگ بھی دیکھ سکیں گے جن کے پاس دیکھنے کی قیمت نہیں۔ سوچئے، جب کوئی بزرگ پہلی بار اپنے پوتے کا چہرہ صاف دیکھے گا تو وہ صرف منظر نہیں دیکھے گا، وہ اپنی زندگی کا کھویا ہوا حصہ واپس پائے گا۔ جب کوئی بچہ پہلی بار کتاب کے حروف پہچانے گا تو وہ صرف پڑھنا نہیں سیکھے گا، وہ دنیا کو نئے سرے سے دریافت کرے گا۔ یہ بصارت کی واپسی نہیں، یہ مستقبل کی تعمیر ہے۔اسلام آباد کے سکوت میں جنم لینے والا یہ منصوبہ محض اینٹوں کا نہیں، ارادوں کا ڈھانچہ ہے۔اس ٹرسٹ کا لاہور میںآئی ہسپتال ایک کامیاب مثال بھی ہے اور ضمانت بھی۔ یہ ایک تسلسل ہے، ایک تحریک ہے، ایک بیانیہ ہے جو کہتا ہے کہ اندھیرے حتمی نہیں ہوتے۔ اگر روشنی کا انتظام کر لیا جائے تو تاریکی خود بخود پیچھے ہٹ جاتی ہے۔اس ادارےکا ساتھ دینا کسی فرد نہیں ایک تصور کا ساتھ دینا ہے۔ یہ اس یقین کا ساتھ دینا ہے کہ خدمت عبادت کا عملی چہرہ ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دعا صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں، ہاتھ بڑھانے کا نام بھی ہے۔ جب دعا عمل میں ڈھلتی ہے تو ادارے بنتے ہیں۔ جب ارادہ نظم اختیار کرتا ہے تو تاریخ بدلتی ہے۔رمضان عارضی مہمان ہے مگر اس کا اثر دائمی ہو سکتا ہے۔اگر ہم اسے صرف رسم نہ بننے دیں۔ اگر ہم اپنی آسائش کا کچھ حصہ چھوڑ دیں تاکہ کسی کی محرومی ختم ہو۔ اگر ہم اپنی خاموشی توڑ دیں تاکہ کسی کی بینائی بول اٹھے۔ کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنا رکھا سوال یہ ہے کہ ہم نے کتنا بانٹا۔ اور جب روشنی بانٹی جاتی ہے تو کم نہیں ہوتی۔پھیلتی ہے۔