• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سولجر بازار، دھماکے سے عمارت منہدم، خواتین و بچوں سمیت 16 جاں بحق، 14 زخمی

کراچی (اسٹاف رپورٹر )سولجربازار ،دھماکے سے عمارت منہدم،خواتین و بچوں سمیت 16 جاں بحق ، 14 زخمی،سحری کے وقت گل رعنا کالونی میں گیس کے مبینہ اخراج کے باعث دھماکے سے گراؤنڈ پلس تین منزلہ رہائشی عمارت مکمل منہدم ہوگئی،گلیاں تنگ ہونے کے باعث ریسکیو اداروں کو دشواری کا بھی سامنا کرنا پڑا،اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ایک زخمی کو ڈسچارج کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سولجربازار گل رعنا کالونی میں گیس کے مبینہ اخراج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں رہائشی عمارت مکمل منہدم ہونے سے خواتین اور بچوں سمیت16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے، دھماکہ سحری کے وقت ہوا۔تفصیلات کے مطابق سولجر بازار تھانے کی حدود سولجر بازارگل رعنا کالونی میں جمعرات کو سحری کے وقت نجی اسکول کے قریب واقع گراؤنڈ پلس تین منزلہ رہائشی عمارت میں گیس لیکیج کے باعث زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں تین منزلہ رہائشی عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی اور عمارت کے ملبے تلے خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد دب گئے۔ واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی ۔اطلاع پر پولیس اور ریسکیو اداروں کے رضاکار موقع پر پہنچے اور عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ گلیاں تنگ ہونے کی باعث ریسکیو اداروں کو دشواری کا بھی سامنا کرنا پڑا۔8 گھنٹوں تک مسلسل جاری رہنے والے آپریشن کے دوران ریسکیو 1122 (سندھ) کی جانب سے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے 16 افراد کی لاشیں نکالی گئیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ عمارت کےملبے سے 14 زخمی افراد کو بھی ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کیا گیا ۔جاں بحق افراد میں 2 سالہ بچی نرجس دختر کمبر ، 60 سالہ محمد ریاض ولد محمد عثمان ، 10 سالہ نازیہ دختر وکیا ،15 سالہ بینظیر دختر وکیا، 27 سالہ کمبر علی ولد بلوچ خان ،21 سالہ یاسمین زوجہ کمبر علی ،6 سالہ سونو دختر جبار ،5 سالہ وسیم ولد ندیم، 28 سالہ ندیم ولد اورس ،12 سالہ سجاد ولد شاہد، 18 سالہ عباس ولد شاہد ،35 سالہ زین النسا زوجہ شاہد ،15 سالہ اقصیٰ دختر انور علی ، 14 سالہ افشہ ،19 سالہ انیشہ اور 18 سالہ رخسار شامل ہیں۔واقعہ میں زخمی ہونے والے 14 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ۔ اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد ایک زخمی کو ڈسچارج کردیا گیا۔ زخمیوں میں 60 سالہ محمد شاہد ولد غلام رسول، 50 سالہ وکیا ولد چھوٹا،14 سالہ بلاول ولد وکیا، 10 سالہ پدھرا دختر وکیا، 6 سالہ عدنان ولد وکیا، 7 سالہ ریاض ولد وکیا، 25 سالہ تسلیم دختر وکیا ، 6 سالہ زین الدین ولد کامران ، 40 سالہ کامران ولد نظر محمد، 12 سنہان ولد وکیا،13 سالہ کوثر دختر انور علی ، 55 سالہ آمنہ زوجہ وکیا اور 18 سالہ جنید ولد محمد انور (18 سال) شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کےچیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکر عابد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت میں دھماکہ سحری کے وقت تقریبا 4 بجے کے قریب ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لگتا یہی ہے کہ دھماکے گیس لیکج یا گیس کھینچے والی میشن کے باعث ہوا۔ انہوں نے بتایاکہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد اس پہلو پر ضرور تحقیقات کی جائیں گی کی دھماکہ کیسے ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ منہدم ہونے والی عمارت 25 سے 30 گز پر بنی ہوئی تھی اور عمارت میں مختلف کمرے بنے ہوئے تھے۔ تنگ گلیوں کی وجہ سے ہیوی مشینری کا علاقے میں داخلہ ممکن نہ تھا جس پر ریسکیو 1122 کےعملے نے روایتی طریقے سے کام کیا۔کٹرز اور گرائنڈرز کی مدد سے کام کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ہیومن ڈیٹیکٹرز کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کوسراغ لگایا اور انہیں ملبے سے زندہ نکالا اور اسپتال منتقل کیا ۔انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر رہائش پذیر تھے۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے انتہائی تیزی کے ساتھ آپریشن کو مکمل کیا گیا۔ریسکیو1122 کےچیف آپریٹنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ عامرت منہدم ہونے سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اورآس پاس کی عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جس کے باعث ان عمارتوں کو خالی کروالیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نصر اللہ عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ لواحقین اور علاقہ مکینوں کی جانب سے جن لاپتہ افراد کے نام ہمیں بتائے گئے تھے ان تمام افراد کوعمارت کے ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد عمارت منہدم ہونے کے واقعہ میں 16 افراد جاں بحق اور 14 افراد زخمی ہوئے ہیں ایک زخمی کو فوری طبی امداد دینے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید