کراچی (رفیق مانگٹ) عراق جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت، خطے میں 40 ہزار امریکی فوجی، 10 جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے تعینات، اسرائیلی سکیورٹی کابینہ اجلاس قبل از وقت طلب، امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیلی دورہ آئندہ ہفتے، تہران میں جنگ کے خدشات، رمضان کے پہلے دن سپر مارکیٹس میں طویل قطاریں، فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 10 دن یہ طے کریں گے کہ امریکہ ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے یا تہران کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں 2003 عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی امریکی فوجی نقل و حرکت جاری ہے اور خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو بری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن نہیں رہے گا۔