• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، گیس پریشر میں کمی، بوسٹرز کا بڑھتا استعمال، شہریوں کی زندگیوں کیلئے بڑا خطرہ، حکومت خاموش

کراچی( مطلوب حسین ) شہر میں گھریلو گیس کے پریشر میں کمی کے باعث پریشر بوسٹرز کا بڑھتا ہوااستعمال ،شہریوں کی زندگیوں کے لئے بڑا خطرہ بن گیا ہے،حکومت خاموش ہے اور اقدامات سے گریزاں ہے،سولجربازار میں ہونے والا سانحہ بھی اسی سلسلے کا شاخسانہ نظر آتا ہے،تفصیلات کےمطابق شہر کے متعدد علاقوں میں سوئی گیس کا پریشر غیر معمولی طور پر کم ہے۔ اس وجہ سے صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی ممکن نہیں ہو رہی، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں پریشر مزید کم ہو جاتا ہے۔ گیس پریشر میں کمی کے باعث بہت سے صارفین نےگیس کنکشن کے قریب کمپریسرز (پریشر بوسٹر) لگانا شروع کر دیے،ماہرین کا کہنا ہےکہ کمپریسر کی غیر مناسب سیٹنگ سے گیس لائن میں اضافی پریشر بن جاتا ہے اور اس کے استعمال سے گیس کے لیک ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اورچنگاری یا حرارت کے سبب دھماکہ ہوجاتا ہے،سولجر بازار میں رہائشی عمارت میں ہونے والا دھماکہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ،گیس لیک ہونے سے ماضی میں بھی آگ لگنے کے متعددواقعات رپورٹ ہوچکے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ان آلات کے استعمال کے روک تھام کے لئے کسی قسم کے خاطر خواہ اقدامات دیکھائی نہیں دئے جارہے جس سے شہریوں کی زندگی کو تحفظ فراہم ہو،حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں افطار و سحری کے اوقات میں پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی کے دعوئوں کے باوجود رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی شہریوں کو افطار و سحری میں گیس پریشر میں کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث شہریوں کی جانب سے سحری و افطاری کے انتظامات کے لئے کمپریسر کا استعمال بڑھ گیا ہے جو کسی بڑے سانحہ کا شاخسانہ ثابت ہوسکتا ہے ،شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مناسب گیس پریشر کی فراہمی کو یقینی بناکر شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید