کراچی (نیوز ڈیسک) غزہ جنگ میں 72 ہزار سے زائد شہادتیں، انسانی بحران اور قحط کے اثرات شدید، اسرائیل کے جنگی اخراجات 317 کھرب روپے تک پہنچ گئے، روزانہ اربوں خرچ، دفاعی اخراجات، شہری امداد اور مالی ادائیگیاں شامل، غزہ کی تعمیر نو میں 70ارب ڈالر اور کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، 23لاکھ آبادی شدید غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ نے بڑے انسانی اور معاشی نقصانات کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں 72ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ بعض اندازے شہادتوں کی تعداد 75ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں، اور زندہ بچ جانے والوں کو قحط اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنگ پر مجموعی طور پر317کھرب روپے(352 ارب شیکل (113 ارب ڈالر) خرچ کیے، جن میں دفاعی اخراجات، شہری امداد اور مالی ادائیگیاں شامل ہیں۔ سابق فوجی معاشی مشیر کے اندازے کے مطابق صرف غزہ جنگ کی لاگت 150 ارب شیکل (48 ارب ڈالر) رہی اور روزانہ اوسطاً 300 ملین شیکل خرچ ہوئے۔