• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہاکی فیڈریشن کی ناکامیاں، انکوائری کمیٹی کی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد (قاسم عباسی) ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن پر فوری طور پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے انتظامی اختیار سنبھالنے کی سفارش کر دی ہے، اور قرار دیا ہے کہ فیڈریشن میں مالی بدانتظامی، انتظامی غفلت اور ’’ملکی وقار‘‘ کو نقصان پہنچانے کا ایک ’’مسلسل اور مکرر نمونہ‘‘ پایا جاتا ہے۔ یہ تحقیق رواں ماہ آسٹریلیا کے شہر ہوبارٹ میں ایف آئی ایچ پرو لیگ میں قومی ٹیم کی بدنظمی اور افراتفری پر مبنی شرکت کے بعد کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن قانونی اندراج کے بغیر کام کر رہی ہے اور حکومتی ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کی مرتکب رہی ہے۔ رپورٹ کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے۔ یہ رپورٹ آسٹریلیا کے دورے کے دوران پیش آنے والی سنگین انتظامی ناکامیوں کی تفصیل بیان کرتی ہے، جن کے نتیجے میں قومی خزانے کو خاطر خواہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ویزوں کے معاملے میں بدانتظامی کے حوالے سے گیا کہ فیڈریشن کو ویزا پراسیسنگ کیلئے 18؍ لاکھ 25؍ ہزار روپے فراہم کیے گئے، تاہم ’’نامکمل اور ناقص‘‘ درخواستیں جمع کرائی گئیں، جس کے باعث سفر میں تاخیر ہوئی اور شیڈول کی تبدیلی پر مزید 99؍ لاکھ 47؍ ہزار روپے خرچ کرنا پڑے۔ رہائش کے انتظامات میں بھی سنگین کوتاہی سامنے آئی۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ڈبل ٹری بائے ہلٹن میں قیام 49؍ ہزار 280؍ امریکی ڈالر بطور پیشگی جاری کیے، لیکن فیڈریشن بروقت رقم منتقل نہ کر سکی۔ 7؍ فروری 2026ء کو آسٹریلیا پہنچنے پر ٹیم کو معلوم ہوا کہ ہوٹل کی بکنگ موثر نہیں رہی۔ کھلاڑیوں کو گنجان ایئر بی این بی رہائش گاہوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ایک کمرے میں پانچ پانچ کھلاڑیوں کو قیام کرایا گیا جبکہ سرکاری فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود مقامی کمیونٹی سے غیر رسمی طور پر مالی مدد طلب کی گئی۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ یہ واقعات انفرادی نہیں بلکہ نظامی غفلت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں ایک کروڑ 47؍ لاکھ 34؍ ہزار روپے کی غیر منضبط سرکاری گرانٹس کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں بین الاقوامی ہوٹلوں کے واجبات کی عدم ادائیگی کا بھی حوالہ دیا گیا، یہ رقم ملکی ساکھ بچانے کیلئے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ادا کرنا پڑی۔ مزید یہ کہ ارجنٹائن کے دورے سے متعلق جمع کرائی گئی دستاویزات کو ’’مشکوک‘‘ قرار دیا گیا۔ بعض پروفارما انوائسز؛ خدمات کی فراہمی سے ایک ماہ قبل جاری کی گئیں، جبکہ بعض بل ہوٹل کے گیسٹ نوٹنگ پیڈز پر تحریر کیے گئے۔
اہم خبریں سے مزید