• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، عدالتی فیصلے پر عمل کرانے کیلئے شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار

اسلام آباد ( رپورٹ :،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عمل کرانے کیلئے شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار دیدیا اور کہا کہ کسی شہری کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بلاک کرنا قانون کا غلط استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں جسٹس عرفان سادات خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت مکمل ہونے 3صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کر دیا، جو جسٹس منیب اختر نے قلمبند کیا،عدالت نے واضح کیا گیا کہ عدالتوں کو ضابطہ دیوانی کی دفعہ 51(e) کے تحت حاصل عمومی اختیارات کو اتنا نہیں کھینچا جا سکتا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق پر ہی اثر انداز ہونے لگیں، اگر عملدرآمد والی عدالت کوکوشہری کاشناختی کارڈ بلاک کرنے کی اجازت دی جائے تو کل کلاں عدالتیں مقروض کے گھر کی بجلی اور پانی بند کرنے کا حکم بھی جاری کرسکتی ہیں، جو کہ جارحانہ اور غیر مناسب عمل ہوگا،محض رقم کی واپسی کے مقدمہ میں ڈگری پر عملدرآمد کروانے والی عدالت کی جانب سے کسی شہری کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بلاک کرنا قانون کا غلط استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے، موجودہ دور میں شناختی کارڈ کوئی تعیش یا محض قانونی ضرورت نہیں، بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے ایک انتہائی ضروری دستاویز بن چکا ہے،جسے بلاک کرنا کسی شخص کو زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کے مترادف ہے،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے بھی درخواست گزارکے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دینے کے حکم کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے شہری کے شناختی کارڈ کی بحالی کا حکم جاری کیا ہے، یاد رہے کہ 2016 میں ڈگری پر عملدرآمد کروانے والی ایک عدالت نے درخواست گزار، آغا عابد مجید خان کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی ، رقم ادا نہ کرنے پر عدالت نے بطور سزا اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جسے بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا ۔
اہم خبریں سے مزید