افغانستان کے وسطی صوبے دایکندی میں فلاحی اداروں کے کئی ترقیاتی منصوبے مقامی آبادی کی توقعات پوری کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، دیہی علاقوں میں کسانوں نے شکایت کی ہے کہ امدادی منصوبوں پر بھاری اخراجات کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔
عرب میڈیا میں شائع ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک زرعی منصوبے کے تحت کسانوں کو بغیر توانائی کے چلنے والی ذخیرہ گاہیں (storage houses) فراہم کی گئیں تاکہ پھل اور سبزیاں محفوظ رکھی جا سکیں تاہم کئی دیہات میں کسانوں نے بتایا کہ ان ذخیرہ گاہوں میں صرف 2 سے 3 خاندانوں کی پیداوار محفوظ کی جا سکتی ہے جبکہ باقی سیب درختوں پر ہی سڑ جاتے ہیں۔
ایک دوسرے فلاحی ادارے نے کسانوں میں درآمدی سبزیوں کے بیج تقسیم کیے اور ان کی تربیت پر بڑی رقم خرچ کی، کسانوں کے مطابق فصل نہایت کم اور ناقص معیار کی نکلی جبکہ ہر خاندان کو حاصل ہونے والی پیداوار کی مالیت صرف 450 افغانی، یعنی تقریباً 7 ڈالر رہی۔
رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2021ء کے دوران افغانستان میں غیر ملکی امداد کے بڑے حصے میں بدعنوانی، خرد برد اور ضیاع کے الزامات سامنے آئے، امریکی نگران ادارے کی تحقیقات کے مطابق 26 سے 29 ارب ڈالر تک رقم ضائع یا غلط استعمال ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق متعدد غیر ملکی فلاحی ادارے منصوبوں پر براہ راست عمل درآمد کے بجائے ذیلی شراکت داروں اور ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کرتے ہیں جس سے نگرانی کمزور اور معیار متاثر ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ غیر ملکی عملے کی بلند تنخواہیں بھی اخراجات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔