• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی قیدی جہاز پر 52 گھنٹے: غزہ یکجہتی مشن کے کارکنان پر کیا گزری؟

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

غزہ کے لیے روانہ ہونے والے یکجہتی بحری مشن (flotilla activist) کے ایک کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں روکے جانے کے بعد اِنہیں اور دیگر کارکنوں کو 52 گھنٹوں سے زائد حراست میں رکھا گیا جہاں غیر انسانی سلوک اور  تشدد کیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کارکن کا کہنا ہے کہ وہ ’عالمی صمود فلوٹیلا‘ (Global Sumud Flotilla) نامی بحری مشن کا حصہ تھا جس میں 50 سے زائد کشتیاں شامل تھیں، یہ مشن غزہ کے محاصرے کے خلاف احتجاج اور علامتی انسانی امداد پہنچانے کے لیے ترکیہ سے روانہ ہوا تھا۔

کارکن کے بیان کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے قبرص کے قریب کشتیوں کو روک کر 428 کارکنوں کو حراست میں لیا اور اِنہیں ایک فوجی جہاز پر منتقل کیا گیا جسے عارضی قید خانہ قرار دیا گیا تھا۔

کارکن نے انکشاف کیا ہے کہ حراست کے دوران قیدیوں کو مارا پیٹا گیا، ٹیزر استعمال کیے گئے، ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں اور اسٹن گرینیڈ پھینکے گئے، زخمی افراد کو مناسب طبی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل پہنچنے کے بعد اشدود بندرگاہ اور بعد ازاں جنوبی اسرائیل کی جیل میں بھی قیدیوں کو سخت حالات، جسمانی تشدد اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

کارکن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی قید نے اِنہیں فلسطینی قیدیوں اور فلسطینی عوام کی طویل مشکلات کا احساس دلایا ہے جن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے وہ اس مشن میں شامل ہوئے تھے۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس رپورٹ کے شائع کرنے سے قبل تک اسرائیلی فوج سے اِن الزامات پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اشاعت تک اسرائیلی فورسز کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید