دنیا بھر میں خواتین کی معاشی خود مختاری اور ملازمتوں میں بڑھتے اضافے کے باعث ایسے گھرانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں بیویاں اپنے شوہروں سے زیادہ کماتی ہیں۔
اگرچہ یہ رجحان صنفی مساوات کی جانب ایک مثبت پیش رفت سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بعض مردوں کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور ازدواجی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کئی معاشروں میں اب بھی مرد کو خاندان کا بنیادی کفیل تصور کیا جاتا ہے، ایسے میں جب بیوی کی آمدنی شوہر سے زیادہ ہو جائے تو بعض مرد خود کو کم مؤثر، غیر محفوظ یا کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آمدنی صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ سماجی حیثیت، اختیار اور ذاتی شناخت سے بھی جڑی ہوتی ہے، مختلف مطالعات میں شامل کئی مردوں نے اعتراف کیا کہ جب ان کی بیویوں کی آمدنی زیادہ ہوئی یا انہوں نے گھریلو ذمے داریوں میں زیادہ کردار ادا کرنا شروع کیا تو انہیں تنقید، مذاق اور مردانگی سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق ایسے سماجی دباؤ بعض مردوں میں ذہنی تناؤ، اضطراب اور خود اعتمادی میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
سوئیڈن میں کی گئی ایک طویل المدتی تحقیق میں 10 سال کے مالی اور طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن مردوں کی بیویاں ان سے زیادہ کمانا شروع ہوئیں، ان میں ذہنی صحت کے مسائل کی تشخیص کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ تھے۔
تحقیق کے مطابق وہ مرد جو اپنی ملازمت سے محروم ہو گئے یا روایتی کفیل کے کردار سے ہٹ گئے، ان میں سماجی تنہائی، ڈپریشن اور بے چینی کے خطرات بھی بڑھ گئے۔
ماہرین کے مطابق خواتین عموماً دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ مضبوط سماجی روابط برقرار رکھتی ہیں، جس کے باعث انہیں جذباتی تعاون کے زیادہ ذرائع میسر ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس بہت سے مرد جذباتی اور سماجی حمایت کے لیے زیادہ تر اپنی شریکِ حیات پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تعلقات میں کرداروں کی تبدیلی بعض اوقات ان کے لیے جذباتی طور پر زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بدلتے ہوئے خاندانی نظام کے کئی مثبت نتائج بھی سامنے آتے ہیں، ایسے والد جو گھر اور بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں، عموماً اپنی اولاد کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرتے ہیں اور ان کی تربیت میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ گھریلو ذمے داریوں کی متوازن تقسیم بچوں میں صنفی مساوات کے حوالے سے زیادہ مثبت سوچ پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ خواتین کی زیادہ آمدنی نہیں بلکہ وہ روایتی سماجی تصورات ہیں جو مرد کی قدر و قیمت کو صرف اس کی کمائی سے جوڑتے ہیں۔
ان کے مطابق مردوں کو اپنی شناخت صرف مالی حیثیت تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ ایک اچھے والد، شریکِ حیات، نگہداشت کرنے والے فرد اور معاشرے کے مفید رکن کے طور پر بھی اپنی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ماہرین کے نزدیک خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی شمولیت کے ساتھ مردوں اور خواتین دونوں کو خاندانی کرداروں کے بارے میں روایتی تصورات پر نظرثانی کرنا ہوگی تاکہ زیادہ متوازن، خوشحال اور مضبوط خاندانی نظام تشکیل دیا جا سکے۔