• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان نے جب پہلی بار غار کی دیوار پر لکیر کھینچی تھی تو وہ تصویر نہیں تھی، اختیار کی خواہش کا سایہ تھی۔ آگ کے گرد پہلا دائرہ محفل نہیں تھا، مرکز کا اعلان تھا۔ تب سے دنیا دو شعلوں کے درمیان چل رہی ہے۔ایک جو آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے، ایک جو دلوں کو روشن کرتا ہے۔ اقتدار کی آگ اونچی جلتی ہے، عدل کی روشنی دیر تک۔تاریخ کتاب نہیں، ایک زخم ہے۔ اسے کھولو تو چرچراتی ہے۔ تاج اور تلوار اکثر ایک ہی ہاتھ میں نظر آتے ہیں، اور خالی ہاتھوں میں صرف دعا اور احتجاج کی لرزش۔ زر قلم بن جاتا ہے، اور ضمیر حاشیے پر سوال۔ فیصلے اوپر لکھے جاتے ہیں، سچ نیچے سے بولتا ہے۔زمین جس کے نام تھی۔

قانون بھی اسی کی زبان میں بولا۔ جسکے حصے میں پسینہ آیا، اس کے نصیب میں خاموشی لکھی گئی۔ فرعون کے محل سنگِ مرمر میں جمی ہوئی ضد تھے، اور غلاموں کی آہیں مٹی میں جذب ہوتی رہیں۔ روم کا آہنی نظم دراصل خوف کی دراڑ تھا۔ ایران کے تاج جواہرات سے چمکتے تھے، مگر کسانوں کی آنکھیں قرض کے آنسوؤں سے روشن تھیں۔ چمک اور نمک ایک ہی منظر میں اکٹھے تھے۔

ظلم کی عمارتیں پتھر کی ہوتی ہیں مگر بنیادیں ریت کی۔ مزاحمت کے جسم کمزور ہوتے ہیں مگر روحیں پہاڑ۔ تاجداروں کے پاس لشکر ہوتے ہیں مگر نیند نہیں۔ باغیوں کے پاس بستر نہیں ہوتا مگر یقین کی چادر ہوتی ہے۔ اقتدار کی میزوں پر معاہدے طے ہوتے ہیں، اور گلیوں میں خواب نئی زبان سیکھتے ہیں۔ ایوانوں میں خاموشی کی دیواریں ہیں، کوچوں میں سچ کی بازگشت۔جب کسی نے عدل کا نام لیا تو تخت لرزے۔ جب مساوات کی صدا اٹھی تو بازار کے ترازو بے وزن ہو گئے۔ جن کے پاس سب کچھ تھا وہ خوفزدہ نکلے، اور جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ مطمئن۔ یہ تاریخ کا عجیب مذاق ہے کہ خوف ہمیشہ دولت کے پاس رہا، اور سکون ہمیشہ محروم کے پاس۔

انقلاب آتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، نعرے دیتے ہیں۔ مگر اکثر رات طویل رہتی ہے اور چنگاریاں مختصر۔ پرانا تاج اترتا ہے، نیا تاج پیشانی ڈھونڈ لیتا ہے۔ پرانی اشرافیہ گرتی ہے، نئی اشرافیہ ملبے پر سیڑھی رکھ دیتی ہے۔ طاقت کا مرکز بدلتا ہے، طاقت کا مزاج نہیں۔ بارش ہوتی ہے مگر کیچڑ میں وہی عکس رہتا ہے۔سوال مگر زندہ رہتا ہے۔ کیا تسلط انسان کی رگوں میں ہے یا حالات کی مٹی میں؟

کیا غیر مساوی تقسیم حادثہ ہے یا منصوبہ؟ کیا مرکزیت نظم کی ضرورت ہے یا ناانصافی کی جڑ؟ آزادی کا خواب اکثر نظم کے خوف سے ٹکرا جاتا ہے، اور مساوات کی خواہش انتشار کے اندیشے میں سمٹ جاتی ہے۔ امید کا پرندہ اڑتا ہے، مگر آسمان میں جال بھی ہوتا ہے۔آج زمین نہیں، معلومات طاقت ہے۔ تلوار نہیں، اسکرین فیصلہ سناتی ہے۔ مگر فیصلہ ساز کی آنکھ میں پرانا عکس باقی ہے۔ فوجی قوت کی جگہ معاشی قوت نے لے لی ہے، مگر بوجھ اٹھانے والا اب بھی وہی ہے۔ سمندر بولتے ہیں، ساحل سنتے ہیں۔ نقشہ بدل گیا ہے، لکیر نہیں بدلی۔

تاریخ کشمکش ہے۔زر اور ضمیر کے درمیان، خوف اور امید کے درمیان۔ ظلم کے ایوان اونچے ہیں مگر دیواروں میں دراڑ ہے۔ حق کی آواز کمزور ہے مگر بازگشت مضبوط۔ شر کے نظام کو بقا مل سکتی ہے، سکون نہیں۔ حق کو شکست مل سکتی ہے، خاموشی نہیں۔ خاموشی لبادہ اوڑھتی ہے مگر اندر سے چیختی ہے۔

مزاحمت زخمی ہوتی ہے مگر آنکھ میں روشنی رکھتی ہے۔جو خاموش رہتے ہیں وہ کرسی پا لیتے ہیں، زمین کھو دیتے ہیں۔ جو اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ زمین پا لیتے ہیں، کرسی کھو دیتے ہیں۔ ظلم سہنے والا سانس لیتا ہے مگر زندگی نہیں پاتا۔ ظلم کے خلاف مرنے والا زندگی چھوڑ دیتا ہے مگر نام نہیں چھوڑتا۔ شہید کا جسم مٹی میں جاتا ہے مگر اس کا نظریہ ہوا میں گھل کر سانس بن جاتا ہے۔ ظالم کا نام پتھر پر کندہ ہوتا ہے مگر وقت کی ہوا اسے ریت کر دیتی ہے۔

دنیا شاید طاقت سے چلتی ہے، مگر قائم حق سے رہتی ہے۔ اگر ہم خاموش رہیں تو نظام قائم رہ سکتا ہے، انسانیت نہیں۔ اگر ہم بول اٹھیں تو نظام لرز سکتا ہے، ضمیر زندہ رہتا ہے۔ یہی تضاد تاریخ کی اصل بنیاد ہے۔یاد رکھو،تاج کی عمر کم ہوتی ہے، سوال کی عمر لمبی۔تلوارکو زنگ لگ جاتاہے، آواز نہیں۔ایوان ویران ہو جاتے ہیں، سچ نہیں۔اور جب حق ایک بار دیوار پر دستک دے تو صدیوں کی خاموشی بھی دروازہ کھول دیتی ہے۔سو دیواروں پر دستکیں جاری رہیں گی ۔ زنداں نامے لکھے جاتے رہیں گے ۔قتل گاہوں سے علم چن چن کر عشاق کے قافلے نکلتے رہیں گے۔ معرکہِ خیر و شیر بپا ہوتا رہے گا۔ مایوسی حرام ہے ۔

فضائے بدر پیدا کر ،فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

تازہ ترین