• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ مارچ1994ء کی دوپہر تھی طیارہ ڈھاکا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہاتھا۔ میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا کہ اپنے ہی ملک کی سرزمین پر ایک اجنبی اور غیر ملکی شہری کی حیثیت سےقدم رکھ رہا تھا اشک بار آنکھیں میرا حال دل بیان کر رہی تھیں۔میںاپنے پاسپورٹ پر بنگلہ دیش کی مہر نہیں لگوانا چاہتا تھا لیکن ڈھاکا میں سارک ممالک کے پریس کلبز کی کانفرنس میں شرکت کیلئے ویزا لگوانا ضروری تھا۔

میں نے ربع صدی گزرنے کے باوجود ڈھاکا کے گلی کوچوں میں پاکستان کی خوشبو محسوس کی مجھے دھان منڈی میں شیخ مجیب الرحمن کے اس گھر کو دیکھنے میں دلچسپی تھی جس میں بیٹھ کر پاکستان کو دو لخت کرنے کی سازشیں کی جاتی تھیں، میں نے پلٹن میدان دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیاجہاں متحدہ پاکستان کےپہلے شہیدعبدالمالک نےپاکستان کیلئےجام شہادت نوش کیا ۔پلٹن میدان ختم کر کے شاپنگ سنٹر بنا دیا گیاتھا۔میں نے شیخ مجیب الرحمن کو قتل کئے جانے کے بعد اقتدار کے منصب پر فائز ہونے والی شخصیت مشتاق کھنڈکرسے بھی رابطہ کیا جماعت اسلامی کے امیر پروفیسر غلام اعظم ،فضل القادر چوہدری کے صاحبزادے صلاح الدین چوہدری سمیت ان’’ پاکستانیوں‘‘ سے بھی ملاقاتیں کیں جن کو پاکستان سے محبت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا یاجنہوں نے جیلوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دی۔ میں نے ڈھاکا کینٹ کے ایک میس میں کرنل فاروق سے بھی ملاقات کی جس نےفوجی چھائونی میں پناہ لے رکھی تھی جسے بعدازاں حسینہ واجد کے قائم کردہ ٹریبونل نے35 سال بعد 28جنوری 2010ء کو سزائے موت سنادی۔ کرنل فاروق کا کول کے تربیت یافتہ تھے 80کے عشرے میں میں نے انکو راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس پروگرام‘‘ میں مدعو کیا تھا۔ 32سال قبل میں نے کئی بنگالیوں سے انکے حالات کار پربات چیت میں نے یہ بات نوٹ کی جب کوئی بنگالی میرے ساتھ ہمکلام ہوتا تو وہ اس بات کا خاص خیال رکھتا کہ کوئی دوسرابنگالی اسکی زبان سے پاکستان کانام نہ سن لے کیونکہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے حق میں بات کرنا جرم تھا لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ ربع صدی گزرنے کے بعد بھی بنگالیوں کے دلوں میں پاکستان بس رہا تھا ۔کئی بنگالیوں نے بتایا کہ انکے والدین پاکستان کے دو لخت ہونےسے قبل مغربی پاکستان میں سرکاری ملازمت کرتے تھے وہ مغربی پاکستان میں گزرے اچھے دنوں کو یاد کرکے روتے تھے۔ جب میں نےاسلام آباد واپسی پر بنگالیوں کے دلوں میں پاکستان کے بسنے کا ذکر کرتاتو لوگ کو یقین نہ آیا۔ آج جب ربع صدی بعد عوامی انقلاب نے بیگم حسینہ واجد کو جان بچا کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا توپاکستان سے محبت کرنے والے کھلم کھلا سڑکوں پر آگئے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانےلگے۔ عام انتخابات میںبھی میدان پاکستان نواز سیاسی جماعتوں کے پاس تھا لہٰذا ووٹرز نے کھل کر دو جماعتوں کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا بنگلہ دیش کی خالق جماعت عوامی لیگ اسی طرح کالعدم قرار دے دی گئی ہے جس طرح حسینہ واجد کی فسطائی حکومت نے جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو کالعدم قرار دے کر ان کی قیادت پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے پھانسی کے پھندے کو چوم کر قرون اولیٰ یاد تازہ کر دی تھی۔ بیگم خالدہ ضیا بیگم حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہونے تک پابند سلاسل رہیں انکے صاحبزادے طارق رحمن نے بیگم حسینہ واجد کے دور اقتدارمیں 17سال جلاوطنی کی زندگی بسر کی۔ حسینہ واجد ایک منتقم مزاج حکمران تھیں انہوں نے بیرون ملک سے اپنے سیاسی مخالفین ڈی پورٹ کروا کر کینگرو کورٹس سےانہیں موت کی سزائیں دلوائیں۔ بیگم حسینہ واجد کی 16سالہ فسطائی حکومت سے عوام کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے شیخ مجیب الرحمن کی قد آدم تصاویر کو ختم کیا اور بیگم حسینہ واجد کو دلی میں جا کر پناہ لینے پر مجبور کر دیا ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی پس پردہ امداد بھی کرتی رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی شکل میں ’’منی پاکستان ‘‘ تو روز اول سے قائم ہے اگر بنگلہ دیش میں نصف صدی گزرنے کے بعد لوگوں کے دلوں میں پاکستان موجود ہے تو اس کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے جس کی قیادت نے تختہ دار پر جھول کر آنے والی نسل کے لئے درخشاں روایت چھوڑی ہے ۔ فیض احمد فیض مرحوم نے1974ء میںبنگلہ دیش سے واپسی پر اپنے جذبات کا اظہاران الفاظ میں کیا تھا

ہم کہ ٹھہرے ا جنبی اتنی مدارتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

آج نصف صدی بعد کے انتخابی نتائج دیکھ کر فیض احمد فیض کو یہ نوید سنانے کو جی چاہتا ہے۔

بنگلہ دیش میں دو قسم کی سوچ رکھنے لوگ موجود ہیں ایک وہ جن کی رگوں میں جتنی شدت سے پاکستان سے محبت کا خون دوڑ رہا ہے اتنی ہی شدت سے ان کے خون میں بھارت سے نفرت ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنگلہ دیش میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف عناصر کا وجود نہیں لیکن پاکستا ن سے محبت کرنے والوں کی اکثریت ہے۔ میں نے 1994میںڈھاکا میں ’’جنیوا کیمپ‘‘ دیکھا تھاایسے 70کیمپ نصف صدی سے قائم ہیں۔ محصورین پاکستان نے ابھی تک بنگلہ دیش کی شہریت قبول کی ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے ان کو سندھ میں آباد ہونے دیا ہے۔ وہ نا مساعد حالات میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے پر مصر ہیں ۔وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے اداکارہ شبنم سے ملا قات تو کر لی لیکن سفارتی مصلحتیں ان کے جنیوا کیمپ کا دورہ کرنے میں آڑے آگئیں ۔ بنگلہ دیش کے سابق چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد یونس نے جاتے جاتے بھارت کو متنبہ کر دیاہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے ۔ نصف صدی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قربتوں میں اضافہ ہوا ہے وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے مغربی اور مشرقی حصے کنفیڈریشن کے رشتے میں منسلک ہو جائیں۔

تازہ ترین