• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے 100 ارب ڈالرز سے زائد منجمد اثاثے کہاں ہیں اور کیوں اہم ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے ایک اہم تنازع بن کر سامنے آئے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق ایران کے تقریباً 100 ارب ڈالرز سے زائد اثاثے مختلف ممالک میں منجمد ہیں، جن تک رسائی پر پابندیاں عائد ہیں۔

یہ اثاثے دراصل وہ رقوم ہیں جو ایران نے تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے حاصل کیں، لیکن امریکی اور عالمی پابندیوں کے باعث انہیں غیر ملکی بینکوں میں روک دیا گیا، ان پابندیوں کا آغاز 1979ء کے بعد ہوا اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام کے باعث مزید سخت کر دی گئیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات سے قبل ان منجمد اثاثوں کو بحال کیا جائے، جبکہ واشنگٹن نے اس حوالے سے کسی بھی فوری پیش رفت کی تردید کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ اثاثے مختلف ممالک میں موجود ہیں، جن میں چین میں کم از کم 20 ارب ڈالرز کے اثاثے، بھارت میں 7 ارب ڈالرز کے اثاثے، عراق میں تقریباً 6 ارب ڈالرز کے اثاثے، قطر میں 6 ارب ڈالرز کے اثاثے، جاپان میں 1.5 ارب ڈالرز کے اثاثے، امریکا میں تقریباً 2 ارب ڈالرز کے اثاثے جبکہ ان ممالک میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔

منجمد اثاثے ان فنڈز یا جائیدادوں کو کہا جاتا ہے جنہیں کسی ملک، عدالت یا عالمی ادارے کی جانب سے قانونی یا سیاسی وجوہات کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا جائے، جس سے مالک ان تک رسائی یا استعمال نہیں کر سکتا۔

ایران کے لیے ان اثاثوں کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے کیونکہ ملک کی معیشت کئی برسوں سے پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل بڑھ چکے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق اگر یہ اثاثے بحال ہو جائیں تو ایران اپنی معیشت کو سہارا دینے، انفرااسٹرکچر بہتر بنانے اور جنگ کے بعد بحالی کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوائنٹ پلان آف ایکشن طے پایا تھا، جس کے تحت کچھ اثاثے بحال ہوئے تھے، تاہم 2018ء میں ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی کے بعد پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئیں اور ایران کے اثاثے ایک بار پھر منجمد ہو گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید