• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2024ء سے ابتک 10 امریکی سائنسدان لاپتہ یا ہلاک، معاملہ پُراسرار ہو گیا

—سوشل میڈیا ویڈیو گریب
—سوشل میڈیا ویڈیو گریب

امریکا میں 2024ء سے اب تک 10 امریکی سائنسدان غیر واضح حالات میں لاپتہ یا ہلاک ہو گئے ہیں اور ان سب کو حساس جوہری یا ایرو اسپیس مواد تک رسائی حاصل تھی۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں شامل کئی افراد فزکس، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ سائنسی شعبوں کے ماہرین تھے اور قابلِ توجہ بات ان واقعات میں پایا جانے والا ممکنہ پیٹرن ہے، جب ان سائنسدانوں کے پسِ منظر اور ٹائم لائن کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعات محض اتفاق نہیں لگتے بلکہ کسی نہ کسی انداز میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ پُراسرایت وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم بھی پہنچ گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ میں نے یہ رپورٹ دیکھی ہے، میں نے ابھی اس بارے میں متعلقہ اداروں سے بات نہیں کی، ہم آپ کو جواب فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو حکومت انہیں سنجیدگی سے لے گی اور ضروری تحقیقات شروع کی جائیں گی۔

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس یہ اشارہ بھی دیتی ہیں کہ ان سائنسدانوں میں سے کئی کا تعلق حساس حکومتی منصوبوں یا کنٹریکٹس سے تھا۔

سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ اس معاملے کا ممکنہ تعلق خلائی مخلوق پر تحقیق یا خفیہ پروگرامز سے ہو سکتا ہے۔

تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے اب تک محدود معلومات ہی فراہم کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔

شفافیت کی کمی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، لیکن جو بات بالکل واضح ہے، وہ یہ ہے کہ متعدد امریکی ہائی لیول سائنسدان پُراسرار حالات میں لاپتہ یا ہلاک ہوئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید