اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ لبنان میں عارضی جنگ بندی پر غور کر رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ایک اجلاس کے دوران لبنان میں عارضی جنگ بندی کے امکان پر غور کیا گیا، جبکہ یروشلم میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ امریکی دباؤ کے پیشِ نظر جنگ بندی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی سیاسی ذریعے نے بتایا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ چند دنوں میں ہمارے پاس لبنان میں مکمل جنگ بندی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللّٰہ کے خلاف جاری جنگ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے، تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے اور ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کو تقویت مل سکے۔
ادھر امریکا نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ اس نے اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، البتہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایک وسیع تر امن معاہدے کے حصے کے طور پر خوش آئند ہو گا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز بھی اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کے راکٹ حملے میں اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے 5 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے 1 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا ایک محدود مدت کی جنگ بندی کے ذریعے کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ اگر کوئی جامع معاہدہ طے نہ پایا تو وہ دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
یہ تجویز امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کی جانب سے حالیہ دنوں میں پیش کی گئی تھی، ابتدائی طور پر اسرائیل نے اس کی مخالفت کی، تاہم اب عندیہ دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اس پر پیش رفت چاہتا ہے۔
منگل کو واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے، تاہم امریکا اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا، اسرائیل بھی اس بات پر قائم ہے کہ لبنان، ایران کے ساتھ کسی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہو گا۔
لبنان کی حکومت نے اپنی سر زمین پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اسرائیل اب تک حزب اللّٰہ کو غیر مؤثر بنانے کے اپنے ہدف پر قائم ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق جنگ کے نتیجے میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور تقریباً 12 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللّٰہ کے سینکڑوں جنگجوؤں کو شہید کر دیا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے اور زخمی ہوئے، لبنان نے 8 اپریل کے حملوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ میں باضابطہ شکایت بھی دائر کر دی ہے۔
اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف سفارتی ذرائع اس میں پیش رفت کا عندیہ دے رہے ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، صورتِ حال بدستور غیر یقینی ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔