• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی انتخابات سے قبل تنازع: 2 درجن ڈیموکریٹ ریاستوں کا ٹرمپ کیخلاف مقدمہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو 

امریکا کی تقریباً 2 درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

مقدمے میں میل اِن ووٹنگ پر نئی پابندیاں لگانے والے صدارتی حکم نامے کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ریاستوں اور ووٹنگ حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ووٹنگ کو مشکل بنا سکتے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے ضروری ہیں۔

نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز سمیت 23 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے حکام نے مقدمہ دائر کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ صدر کو یک طرفہ طور پر انتخابی قوانین تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ووٹ دینے کے اہل امریکی شہریوں کی فہرست تیار کرنا ہو گی جبکہ امریکی پوسٹل سروس کو صرف ان افراد کو بیلٹ بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے جو مخصوص میل اِن یا غیر حاضری کی ووٹنگ فہرست میں شامل ہوں۔

ووٹنگ حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی سطح کی فہرست نامکمل ہو سکتی ہے اور اس سے پوسٹل سروس پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

امریکا میں میل اِن ووٹنگ کا رجحان کوویڈ 19 کی وباء کے بعد نمایاں طور پر بڑھا ہے اور 2024ء کے انتخابات میں تقریباً ایک تہائی ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تھے۔

ریاستوں کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کے تحت انتخابات کے طریقۂ کار کا اختیار ریاستی حکام کے پاس ہوتا ہے اور نئی پابندیاں صرف کانگریس ہی منظور کر سکتی ہے۔

مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابات سے کچھ ماہ پہلے نظام میں تبدیلی انتشار پیدا کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ مڈٹرم انتخابات سے طے ہو گا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر کس جماعت کا کنٹرول ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر ریپبلکن پارٹی اکثریت کھو دیتی ہے تو انہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید