روس کے شہر ریازان میں گورنر پاویل مالکوو نے ایک نیا حکم جاری کیا ہے جس کے تحت بڑی کمپنیوں کو اپنے ملازمین میں سے فوجی سروس کے لیے امیدوار نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کو فوجی بھرتی کا ایک خفیہ طریقۂ کار قرار دیا جا رہا ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 150 سے 300 ملازمین والی کمپنیوں کو کم از کم 2 افراد، 300 سے 500 ملازمین والی کمپنیوں کو 3 افراد جبکہ 500 یا اس سے زائد ملازمین رکھنے والی کمپنیوں کو کم از کم 5 ملازمین کے نام جمع کروانے ہوں گے۔
یہ ہدایات تمام نجی اور سرکاری اداروں پر لاگو ہوں گی اور کمپنیوں کو 20 ستمبر تک امیدواروں کی فہرست جمع کروانے کا کہا گیا ہے، فی الحال مقررہ تعداد پوری نہ کرنے پر کسی واضح سزا کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد کمپنیز کے مالک بھی عملی طور پر فوجی بھرتی کے نظام کا حصہ بن گئے ہیں جسے مبصرین غیر اعلانیہ متحرک فوجی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نامزد افراد روسی فوج میں ’کنٹریکٹ کے تحت فوجی سروس‘ کے امیدوار ہوں گے جو بظاہر رضاکارانہ بنیادوں پر ہوتی ہے، یہی کنٹریکٹ سسٹم یوکرین جنگ کے دوران روسی فوجی بھرتیوں کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس یوکرین جنگ میں بھاری نقصانات کے بعد مزید فوجی اہلکار حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
روسی حکام کے مطابق 2025ء میں 420000 افراد نے فوجی کنٹریکٹس پر دستخط کیے تاہم بڑی شہری آبادیوں میں بھرتی کی رفتار کم اور تعداد کم رہی۔
مقامی قانون کے تحت صدارتی احکامات میں رکاوٹ ڈالنے والی کمپنیوں کو 1000000 روبل تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔