میں آپ سے اس طرح مخاطب ہوں جیسے میانوالی میں نمکسار کے کہسار بہتے ہوئے دریا ئے سندھ سے بات کرتے ہیں۔ پہاڑ صدیوں تک خاموش رہتے ہیں، مگر ان کی خاموشی میں تاریخ بولتی ہے۔ دریا شور مچاتا ہے، مگر پہاڑ گواہی دیتا ہے۔ انسان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ طاقت شور کرتی ہے، مگر ضمیر خاموش گواہ بن کر کھڑا رہتا ہے۔ انسانی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ نہیں ہوتے، وہ زخم ہوتے ہیں، اور زخموں کی ایک عجیب خاصیت ہوتی ہے ۔ وہ بھر بھی جائیں تو یاد باقی رہتی ہے۔ چھ اگست انیس سو پینتالیس ایسا ہی دن تھا۔ اس دن جاپان کے شہر ہیروشیما کے آسمان پر ایک روشنی پھوٹی۔ وہ روشنی صبح کی طرح روشن تھی مگر اس میں زندگی نہیں تھی۔ وہ سورج کی طرح چمکی مگر اس میں حرارت نہیں، قیامت تھی۔
ایک لمحہ آیا جب انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہی زمین کو آگ کے حوالے کر دیا۔ شہر شعلہ بنا، شعلہ راکھ بنا اور راکھ ہوا میں اڑ گئی۔ کہتے ہیں ایک لاکھ چالیس ہزار انسان اس دن مر گئے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اس دن صرف انسان نہیں مرے، انسانیت کا ایک حصہ بھی جل کر خاک ہو گیا۔
پھر صرف تین دن بعد زمین نے ایک اور سانس لی اور آسمان نے ایک اور قیامت دیکھی۔ جاپان کے شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرا۔ آسمان وہی تھا، بادل وہی تھے، سورج بھی وہی تھا مگر زمین بدل گئی تھی۔ ایک اور شہر خاموش ہو گیا۔ کچھ لوگ اسی لمحے مر گئے، کچھ آہستہ آہستہ۔ تابکاری نے ان کے جسموں میں گھر بنا لیا۔ بیماری نے ان کے خون میں راستہ بنا لیا۔ موت کبھی جلدی آئی اور کبھی دیر سے آئی۔ یہی تاریخ کا عجیب تضاد ہے۔ ایک لمحہ مختصر بھی ہوتا ہے اور صدیوں جتنا طویل بھی۔ ایک بم گرتا ہے اور اس کی گونج نسلوں تک جاتی ہے۔ ایک شہر جلتا ہے اور اس کی راکھ صدیوں تک انسانیت کی آنکھوں میں اڑتی رہتی ہے۔
اے امریکی عوام! آپ شاید سمندر کے پار بیٹھے ہوں۔ آپ کے شہر روشن ہیں، آپ کی سڑکیں وسیع ہیں، آپ کی جمہوریت مضبوط ہے۔ مگر درد کا کوئی ویزا نہیں ہوتا اور دکھ کو کسی سرحد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہیروشیما میں جو بچہ جلا تھا وہ کسی ماں کا بیٹا تھا۔ ناگاساکی میں جو باپ مرا تھا وہ کسی گھر کا ستون تھا۔ وہ لوگ کسی جنگی نقشے پر صرف نقطے تھے مگر اپنے گھروں میں پوری کائنات تھے۔ طاقت نے نقشہ دیکھا، مگر زندگی نے گھر دیکھا۔ طاقت نے ہندسہ گنا، مگر دل نے چہرہ دیکھا۔ یہی فرق ہے طاقت اور انسانیت میں۔
آپ کی سرزمین پر جمہوریت کا چراغ جلتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی قوم ہو جسکے ہاتھ میں اتنی بڑی طاقت ہو جتنی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کا ووٹ محض ایک کاغذ نہیں ہوتا، وہ تاریخ کی سمت بدلنے والا قلم ہوتا ہے۔ آپ حکومتیں بناتے ہیں، آپ اقتدار دیتے ہیں، آپ طاقت کو راستہ دکھاتے ہیں۔ مگر طاقت ایک عجیب مخلوق ہے۔ اگر اس کی آنکھ پر اخلاق کی پٹی نہ ہو تو وہ اپنے ہی سائے سے ٹکرا جاتی ہے۔ طاقت جب ضمیر سے جدا ہو جائے تو وہ ترقی نہیں رہتی، وہ تباہی بن جاتی ہے۔اکیسویں صدی شروع ہوئی تو دنیا نے امید کی تھی کہ شاید انسان نے جنگ سے کچھ سیکھ لیا ہوگا۔ مگر تاریخ کا پہیہ اکثر انسان کی خواہش سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ سن دو ہزار ایک کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان ہوا۔ یہ نعرہ مضبوط تھا، مگر اس کی گونج میں بہت سی چیخیں دب گئیں۔
عالمی تحقیق کے مطابق Brown University کے “Costs of War Project” نے اندازہ لگایا کہ ان جنگوں میں تقریباً نو لاکھ چالیس ہزار انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ہندسہ ہے، مگر ہر ہندسے کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ایک گھر ہے، ایک خواب ہے۔ افغانستان کے پہاڑوں میں، عراق کی گلیوں میں، شام کے کھنڈروں میں، یمن کی وادیوں میں ۔ ہر جگہ ایک جیسا دکھ ہے۔ بم جب گرتا ہے تو وہ زبان نہیں پوچھتا، مذہب نہیں دیکھتا، وہ صرف گرتا ہے۔ اور جب وہ گرتا ہے تو انسان کے گھر کے ساتھ اس کی امید بھی ٹوٹ جاتی ہے۔
جنگ ایک عجیب شے ہے۔ وہ امن کے نام پر شروع ہوتی ہے اور بے امنی پر ختم۔ وہ انصاف کے وعدے سے اٹھتی ہے اور انتقام کی راکھ چھوڑ جاتی ہے۔ جب بچے دھماکوں کی آواز میں سوتے ہیں تو ان کی لوریاں بھی کانپتی ہیں۔ ایک نسل اگر خوف میں پلتی ہے تو اس کا مستقبل بھی خوف سے بھرا ہوتا ہے۔ یہی جنگ کا اصل زخم ہے ۔ وہ صرف حال کو نہیں، مستقبل کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔امریکہ خود کو آزادی کا علمبردار کہتاہے۔
آزادی ایک خوبصورت لفظ ہے۔ مگر کبھی کبھی الفاظ اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بہت بڑا ہو جاتاہے۔ جب ڈرون حملہ کسی گاؤں کے اوپر سایہ بن کر منڈلاتا ہے تو آزادی کا لفظ چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ جب کوئی ماں ملبے میں اپنے بچے کو ڈھونڈتی ہے تو اسے سیاست یاد نہیں رہتی، اسے صرف اپنا بچہ یاد رہتا ہے۔ یہی تاریخ کا سب سے بڑا تضاد ہے ۔ ایک ہاتھ میں آئین، دوسرے میں ہتھیار۔ ایک زبان پر حقوق، دوسری زبان پر جنگ۔
اے امریکی عوام! اگر آج ایران میں اسکول پر بمباری کے نتیجے میں ایک سوپچاس پچیاں شہید ہوتی ہیں تو یہ المیہ کل کسی امریکی اسکول کی دہلیز پر بھی پہنچ سکتا ہے ۔ میں آپ سے الزام کی زبان میں نہیں، ضمیر کی زبان میں بات کر رہا ہوں۔ کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی ایک سادہ سوال سے چھوٹی ہو سکتی ہے کیا طاقت کا مطلب یہی ہے کہ وہ استعمال ہو؟ کیا عظمت کا پیمانہ تباہی ہے؟ کیا تم لوگوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی راکھ سے کچھ نہیں سیکھا؟