ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نئے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو ایک ایسے وقت میں ذمہ داری سونپی گئی ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی اور جنگ کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ اور حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی رہنما شہید ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور متعدد شہر تباہ ہوئے ہیں۔
احمد وحیدی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ابتدائی دور سے وابستہ رہے ہیں، وہ 1980ء کی دہائی میں مختلف انٹیلی جنس اور فوجی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وہ 1988ء سے 1997ء تک آئی آر جی سی کی ایلیٹ فورس قدس فورس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، بعد میں یہ ذمہ داری معروف کمانڈر قاسم سلیمانی کو دی گئی تھی، جو 2020ء میں امریکی ڈرون حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
احمد وحیدی کو سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے دسمبر میں آئی آر جی سی کا نائب سربراہ مقرر کیا تھا، وہ ایران کی فوج میں بھی نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
فوجی کردار کے علاوہ احمد وحیدی سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہے، وہ سابق صدر محمود احمد کے دور میں وزیر دفاع جبکہ صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہے، تاہم ان پر ماضی میں مختلف الزامات بھی لگائے گئے۔
1994ء میں ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں یہودی مرکز پر ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں انٹرپول نے ان کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیا تھا، جس میں 85 افراد ہلاک ہوئے تھے، ایران نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔
امریکا اور یورپی یونین نے بھی 2022ء میں مہیسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی پر احمد وحیدی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ میں احمد وحیدی کا تقرر ایران کی فوجی قیادت کے لیے ایک اہم اور حساس مرحلہ ہے، کیونکہ انہیں پہلی بار مکمل جنگی صورتحال میں پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کرنا ہوگی۔